کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 75
قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں تحریف و تبدیل کرنے سے خبردار اور متنبہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلِلّٰہِ الْأَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا وَذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْ أَسْمَآئِہٖ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْ یَعْمَلُوْنَ o﴾ [الاعراف:۱۸۰] ’’ اللہ تعالیٰ کے سارے نام اچھے ہیں ، اس کو اچھے ناموں ہی سے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں ۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کا بدلہ وہ پا کر رہیں گے۔‘‘ قرآن کریم نے اس پر بھی متنبہ کیا ہے کہ جو نام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے مقام و مرتبہ کے شایان شان نہیں وہ اس کے لیے تجویز نہ کیے جائیں ۔ فرمایا: ﴿مَا اتَّخَذَ ا للّٰه مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ إِلٰہٍ إِذًالَّذَھَبَ کُلُّ إِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط سُبْحٰنَ ا للّٰه عَمَّا یَصِفُوْنَ﴾[المؤمنون:۹۱] ’’ اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا خدا اس کے ساتھ نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق ( مخلوق) کو لے کر الگ ہو جاتا اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اَسماء و صفات جاننے کاقابل اعتماد ذریعہ۔وحی: انسان کا علم تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے بارے میں بھی واجبی سا ہے، پھر وہ اللہ تعالیٰ کے بارے کس طرح کا مل معلومات پا سکتا ہے۔ ذرا غور کریں ، ساتوں آسمان تو کرسی کے مقابلے میں ایسے ہی ہیں جیسے سات درہم کسی ڈھال کے اندر ہوں اور خود کرسی عرش الٰہی کے سامنے یوں ہے جیسے لوہے کا کڑا کسی لمبے چوڑے صحرا میں ہو۔ قرآن حکیم نے بیان کیا ہے: ﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی o﴾ [طہ:۵] ’’رحمن کی ذات عرش پر مستوی ہے۔‘‘ ہمارے علم کا حال تو یہ ہے کہ دنیا کے آسمان پر چمکنے والے ستاروں کو بھی ابھی تک نہیں پا سکا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی کے بارے میں صحیح اور مکمل معلومات تک ہماری رسائی کیسے ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: