کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 749
کرو۔‘‘]اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کے بعد دعا کے بارے میں فرمایا: ((ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ مِنَ الدُّعَآئِ اَعْجَبَہٗ اِلَیْہِ)) [1] وفیہ روایۃ ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ مِنَ الْمَسْئَلۃِ مَا شَآئَ)) [’’پھر جو دعا اسے پسند ہے وہ کرے۔‘‘] (۲)قنوتِ نازلہ میں عربی زبان میں اپنی طرف سے دعائیں کی جا سکتی ہیں ۔ کیا اسی طرح غیر عربی زبان میں بھی قنوتِ نازلہ میں دعائیں کی جا سکتی ہیں ؟ کیا عربی زبان میں اپنی طرف سے قنوتِ نازلہ کی دعائیں کلام الناس میں داخل نہیں ؟ (۳)کیا مندرجہ بالا تمام جگہوں پر غیر عربی زبان میں دعائیں کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ، فرض نماز یا نفلی نمازمیں عاجز یا غیر عاجز کا کوئی فرق ہے؟ (حافظ عبداللہ ، عارف والہ) ج: ۱۔نہیں ! ۲۔نہیں ۳۔نہیں ان سب کی دلیل وہی ہے جو سورۂ فاتحہ ، ما بعد فاتحہ والی قراء ت ، دعاء و ذکرِ استفتاح ، رکوع ، قومہ ، سجدہ ، مابین السجدتین ، تشہد اور درُود کے غیر عربی میں نہ پڑھنے کی دلیل ہے ، ان کے کلام الناس نہ ہونے کی دلیل ہے اور ان میں فرض و نفل میں فرق نہ ہونے کی دلیل ہے۔ یہ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ نے بھی ان چیزوں کے علاوہ کے متعلق سوال فرمایا ، چنانچہ آپ لکھتے ہیں : نماز میں رکوع ، سجدہ اور تشہد کے بعد سلام سے پہلے غیر عربی میں دعا کر سکتا ہے یا نہیں ؟ [سجدہ میں دعا مانگنے کا طریقہ یہ ہے کہ فرض نماز میں وہی دعائیں مانگی جائیں جو سجدہ کے متعلق مقبول احادیث میں وارد ہوئی ہیں اور اگر سنتیں یا نوافل ادا کیے جارہے ہوں تو دیگر مسنون دعائیں بھی مانگی جا سکتی ہیں اور اگر کوئی شخص نماز کے بغیر صرف سجدہ کر رہا ہے تو جو چاہے دعا مانگے خواہ عربی زبان میں یا اپنی زبان میں ۔] ۲۷/۲/۱۴۲۱ھ س: کیا حق فلاں یا حرمتہ فلاں کے ساتھ دعا کرنا جائز ہے؟ اگر کوئی کہے یا اللہ! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل معاف فرما ، اپنے اس پیارے نبی یا ولی یا فلاں بزرگ کے صدقہ میں میری دعا قبول فرما کر میری حاجت پوری کر دے کیا اس طرح کہنا شرک ہے؟ (محمد یونس شاکر) ج: ان الفاظ کے ساتھ دعاء کتاب و سنت سے ثابت نہیں ۔ ایسی دعاء کے شرک ہونے یا نہ ہونے میں تفصیل ہے ، بعض صورتوں میں شرک ہے اور بعض صورتوں میں شرک نہیں ، ان صورتوں کی تعیین ان الفاظ کے ساتھ [1] بخاری/کتاب الأذان/باب ما یتخیر من الدعاء بعد التشھد ولیس بواجب۔