کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 746
میں تیرا ہی گنا ہ گار ( بندہ) ہوں تو مجھے بخش دے ، اللہ رب العزت نے فرمایا : یہ میر ابندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ضرور ہے، جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے ، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ، پھر بندہ رکا رہا ، جتنا اللہ نے چاہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: میرے رب! میں نے دوبارہ گناہ کر لیا ، اسے بھی بخش دے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میر ابند ہ جانتا ہے کہ اس کا رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے بدلے میں سزا بھی دیتا ہے ، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا بندہ گناہ سے رُکا رہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور اللہ کے حضور میں عرض کیا: اے میرے رب! میں نے گناہ پھر کر لیا ہے تو مجھے بخش دے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے ورنہ اس کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ تین مرتبہ پس اب جو چاہے عمل کر لے۔[1] س: جو آدمی سگریٹ یا حقہ پیتا ہے وہ درُود شریف یا اور ذکر کر سکتا ہے اور اسلام میں حقہ پینے کی کیا وعید ہے؟(محمد یوسف ڈوگر) ج: حقہ نوشی ، سگریٹ نوشی ، تمباکو نوشی اور نسوار نوشی سب ناجائز اور حرام ہیں کیونکہ حقہ ، سگریٹ ، تمباکو اور نسوار مسکر و نشہ آور ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ)) [2] [’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘]نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((کُلُّ مُسْکُرٍ خَمْرٌ)) [3] [’’ہر نشہ آور چیز شراب ہے۔‘‘] لہٰذا ان کی حد و سزا وہی ہے جو خمر و شراب کی ہے۔ ۱/۷/۱۴۲۳ھ س: کیا مقتدی قرآن کی سورتوں کے جواب دے سکتا ہے ؟ آہستہ آواز سے یا بلند آواز سے ؟ (عبدالرؤف گجرات) ج: مقتدی اگر آیات کا جواب دینا چاہے تو بلا آواز جواب دے سکتا ہے با آواز نہیں دے سکتا کیونکہ اس کو استماع و انصات کا حکم ہے ۔ ہاں جن چیزوں کا مقتدی کے لیے بآواز کہنا کتاب و سنت سے ثابت ہے وہ چیزیں بآواز ہی کہے گا۔ ۱۳/۱/۱۴۲۴ھ س: ((اِنَّ لِلّٰہِ مَلٰٓئِکَۃً سَیَّاحِِیْنَ فِی الْاَرْضِ یُبَلِّغُوْنِیْ مِنْ أُمَّتِیَ السَّلَامَ)) [4]اس روایت سے [1] صحیح بخاری/کتاب التوحید/باب قول اللّٰه تعالیٰ:﴿یریدون ان یبدلوا کلام اللّٰہ﴾ صحیح مسلم/کتاب التوبۃ/باب قبول التوبۃ من الذنوب وان تکررت الذنوب والتوبۃ۔ [2] مسلم/کتاب الأشربۃ؍باب بیان ان کل مسکر خمر و ان کل خمر حرام [3] مسلم/کتاب الأشربۃ۔باب بیان ان کل مسکر خمروان کل خمر حرام۔ [4] سنن النسائی ؍ کتاب السہو؍ باب التسلیم علی النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔