کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 744
سے ، حقوق اللہ یا حقوق العباد بھی۔ اس کی وضاحت کریں ۔ (۳) سورۃ النساء کی آیت:۱۱۰ ترجمہ:’’ جس نے برائی کی یا اپنی جان پر ظلم کیا اور پھر بخشش یعنی استغفار کیا وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا پائے گا۔‘‘ حقوق العباد استغفار اور توبہ کرنے سے معاف ہو جائیں گے یا اس شخص کو بدلہ دیا جائے گا؟ (۴) بنی اسرائیل کے شخص کا واقعہ ۱۰۰ آدمیوں کو قتل کرنے والا حقوق العباد کے زمرے میں آتا ہے لیکن توبہ سے اس کی بخشش ہو گئی ، اس کی وضاحت کریں ؟ (ڈاکٹر منظور احمد) ج: اپنے لیے اور والدین کے لیے استغفارو دعاء ، والدین کے دوست ، احباب اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان و حسن سلوک سے پیش آنا ، صلہ رحمی سے کا م لینا ، والدین کی طرف سے صدقہ ، حج اور عمرہ کرنا اور والدین کے مواعید ، معاہدات اور جائز وصایا کو پورا کرنا۔ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کوئی ایسی نیکی باقی ہے جو میں والدین کی وفات کے بعد ان کے ساتھ کروں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ان کے حق میں دعائے خیر کرنا اور ان کے لیے مغفرت مانگنا ان کے بعد ان کے ( کیے گئے) عہد کو پورا کرنا اور ان کے ان رشتوں کو جوڑنا جو انہی کی وجہ سے جوڑے جاتے ہیں اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا ۔[1] معلوم ہوا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے لیے ان کی زندگی کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اگر ان کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ کوئی نیکی کرنا چاہے تو حدیث میں مذکور طریقے اختیار کیے جائیں ان طریقوں میں قرآن خوانی ، تیجہ ، ساتواں ، دسواں اور چہلم وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ، اس لیے ایصالِ ثواب کے یہ سارے طریقے غیر شرعی ہیں ان سے مُردوں یا زندوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہے کیونکہ یہ کام حدیث میں والدین کے ساتھ نیکی شمارکیے گئے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کاموں سے اولاد کو والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا صلہ ملے گا اور والدین کے لیے بھی مغفرت اور رفع درجات کا باعث ہوں گے ، وفات کے بعد والدین کے حق میں دعائے خیر کی مقبولیت اس حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے مرنے کے ساتھ ہی عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے البتہ تین چیزوں کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے: صدقہ جاریہ کا ، ایسے علم کا جس سے لوگ فیض یاب ہو رہے ہوں ، نیک اولاد کی دعاؤں کا۔[2] [1] سنن ابی داؤد؍کتاب الأدب باب براء الوالدین اسے ابن حبان حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے۔ [2] صحیح مسلم ؍ کتاب الوصیۃ ؍ باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ۔