کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 741
[((عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ا للّٰه رضی اللّٰه عنہ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم یُعَلِّمُنَا الْاِسْتِخَارَۃَ فِی الْاُمُوْرِ کُلِّھَا کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ یَقُوْلُ اِذَا ھَمَّ اَحَدُکُمْ بِالْاَمْرِ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیْضَۃِ ثُمَّ لِیَقُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ اَوْ قَالَ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَآجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِک لِیْ فِیْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ اَوْ قَالَ فِیْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَآجِلِہٖ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْلِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ قَالَ وَیُسَمِّیْ حَاجَتَہٗ))[1] ’’جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام کاموں کے لیے استخارہ کی تعلیم فرمایا کرتے ، جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھلایا کرتے تھے ۔ ارشاد فرماتے کہ جب کوئی تم میں سے کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرض کے علاوہ دو رکعت پڑھ لے ۔ پھر یوں کہے: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت بھلائی چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت طاقت چاہتا ہوں اور تجھی سے تیرا فضل عظیم چاہتا ہوں ، بے شک تو ہی قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا ہوں اور تو ہی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین و دنیا میں اور میرے کام کے آغاز و انجام میں بہتر ہے تو اس کو میر ے لیے مقدر فرما دے اور اس کو میرے لیے آسان کر دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین و دنیا میں اور میرے کام کے آغاز و انجام میں نقصان دہ ہے تو اس کو مجھ سے الگ کر دے اور مجھے اس سے علیحدہ کر دے۔ اور جہاں کہیں بھلائی ہو وہ میرے لیے مقدر کر دے اور اس کے ذریعے مجھے خوش کر دے ۔ آپ نے فرمایا: پھر اپنی ضرورت کا نام لے۔‘‘] س: بازار جاتے وقت لَا اِلٰہَ اِلاَّ ا للّٰه وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ .....الخ کا ورد کرنا کیسا ہے؟ سند کے بارے میں بتائیں ؟ (عبدالرؤف ، گجرات) ج: بازار میں داخل ہونے کے ذکر : ((لَا اِلٰہَ اِلاَّ ا للّٰه وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لاَّ یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)) [2] [’’نہیں کوئی معبود [1] بخاری/التہجد/باب ما جاء فی التطوع مثنیٰ مثنیٰ۔ [2] ترمذی/ابواب الدعوات/باب ما یقول اذا دخل السوق۔