کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 74
درہم برہم ہو جاتا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے اندر حق کو پہچاننے کے لیے کامل و مکمل دلائل رکھے ہیں اور ہمیں کان ،آنکھ اور سوچنے سمجھنے والے دل سے نوازا ہے، جن کے ذریعے ہم دلائل کو پہچان سکتے ہیں ۔ اس طرح اتمام حجت ہو جاتا ہے اور تمام شبہات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں ۔ اسماء و صفات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا معرفت اَسماء و صفات کی اہمیت: اگر یہ کہا جائے کہ فلاں آدمی بہت سخی ہے اور اس کی خوبی یہ ہے کہ جو اس سے مانگے وہ دے دیتا ہے، یہ سنتے ہی تو اس کی عنایت پر توجہ کرے گا اور دل میں اس کا احترام کرے گا ۔ اس خوبی کا علم ہونے کے بعد ضرورت پڑنے پر تو اس آدمی کی سخاوت سے فائدہ اٹھائے گا۔ اور اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ فلاں بخیل و کنجوس آدمی ہے توسارا معاملہ الٹ ہو جائے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حکومت وقت انتہائی عادل ہے جو بھی اس ملک میں رہتا ہے اس کا انتہائی خیال رکھتی ہے اور جو قانون کی خلاف ورزی کرے اس کا سختی سے محاسبہ کرتی ہے، تو اب لوگ اس ملک میں اس طور زندگی بسر کریں گے کہ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ سہولتوں سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے، نظام عدل کے فوائد سے بہرہ ور ہوں گے ، قانون کا احترام کریں گے، اور جس قدر خوبیاں اس حکومت میں پائی جائیں گی اسی قدر لوگ اس سے محبت کریں گے۔ اس ملک میں بسنے والوں کی انتہائی کوشش ہو گی کہ اپنے آپ کو سزا سے محفوظ رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ کی مثال تو بہت عظیم ہے۔ جو آدمی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی صفات کو جان لے اور اسمائے حسنٰی کو پوری طرح پہچان لے تو آسمانوں اور زمین کے مالک کے بارے میں اس کا علم بہت وسیع ہو جائے گا اور جس قدر اس کو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا علم ہو گا اسی طرح سیرت و کردار میں ڈھلتا چلا جائے گا۔ کافروں کا تو معاملہ ہی علیحدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿مَا قَدَرُواللّٰہَ حَقَّ قَدْرِھٖ ط إِنَّ ا للّٰه لَقَوِیٌ عَزِیْزٌ o﴾ [الحج:۷۴] ’’ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے۔‘‘