کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 734
بھی شامل ہے ۔ حدیث افک میں ہے کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا قافلہ سے پیچھے رہ گئی ہیں تو انہوں نے اس موقع پر ﴿اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ﴾ پڑھا تھا۔[1] ۲:…ہاں ! ((اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّار)) صبح و شام والی روایت کمزور ہے ۔ مشکاۃ /کتاب الدعوات /باب ما یقول عند الصباح والمساء والمنام میں تعلیق الألبانی میں لکھا ہے : ’’وإسنادہ ضعیفٌ‘‘ اور دوسری روایت : ((اللھم طھر قَلبیْ من النِّفاق)) کے متعلق تنقیح الرواۃ/کتاب الدعوات /باب جامع الدعاء میں لکھا ہے: ’’وإسنادہ ضعیف‘‘ ۹/۱۲/۱۴۲۳ھ س: حافظ صاحب کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کرم کرے۔ (محمد امجد) ج: مندرجہ ذیل دعا کثرت سے پڑھتے رہا کریں : ((اَللّٰھُمَّ أَصْلِحْ لِیْ دِیْنِیَ الَّذِیْ ھُوَ عِصْمَۃُ أَمْرِیْ، وَأَصْلِحْ لِیْ دُنْیَایَ الَّتِیْ فِیْھَا مَعَاشِیْ ، وَأَصْلِحْ لِیْ آخِرَتِیَ الَّتِیْ فِیْھَا مَعَادِیْ وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِیْ فِیْ کُلِّ خَیْرٍ ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ)) [2] [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: اے اللہ! میر ے دین کی درستی فر ما دے جو میر ے معاملات زندگی کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور میری دنیا کی اصلاح فرما دے جس میں میں نے اپنی زندگی کے ایام گزارنے ہیں اور میری آخرت سنوار دے جس میں دنیا کے بعد میرا دائمی ٹھکانہ ہے اور زندگی کو میرے لیے ہر بھلائی کی زیادتی کا ذریعہ بنا دے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے آرام کا سبب بنا دے۔‘‘] ۱۱/۱۱/۱۴۲۳ھ س: محترم حافظ صاحب بندہ آپ سے طالب دعا ہے کہ معمولی سا کاروبار ہے ، دعا فرمائیں باری تعالیٰ بیٹیوں کا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور میری تنگدستی اور پریشانیاں دور فرما ئے آمین۔ ج: اللہ تعالیٰ آپ کی ہمہ قسم کی پریشانیاں دور فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین۔ مندرجہ ذیل دعائیں آپ اور آپ کے گھر والے کثرت سے پڑھتے رہا کریں : ﴿رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ إِمَامًا﴾[الفرقان:۷۴] [’’اے ہمارے پروردگار تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں ] [1] تفسیر ابن کثیر ، سورۃ النور، جلد:۳۔آیت:۱۱ [2] صحیح مسلم/کتاب الذکر والدعاء/باب التعوذ من شر ما عمل و من شر ما لم یعمل۔