کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 733
ج: امام سیوطی نے فضائل القرآن لابن الضریس کے حوالہ سے در منثور میں لکھا ہے : ((عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ أَبِیْ رَافِعٍ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ: أَلَا أُخْبِرُکُمْ.....الحدیث وَفِیْ آخِرِہٖ: وَمَنْ قَرَأَ الْخَمْسَ آیَاتٍ مِنْ خَاتِمَتِھَا حِیْنَ یَأْخُذُ مَضْجَعَہٗ مِنْ فِرَاشِہٖ حُفِظَ ، وَبَعَثَ مِنْ أَٰیِّ اللَّیْلِ شَائَ)) (۴/۲۵۷)مگر یہ اسماعیل بن أبی رافع کی بلاغ ہونے کی بناء پر ثابت نہیں ۔ ۱۳/۱/۱۴۲۴ھ س: ایک سورت جس کا ثواب قرآن و حدیث میں آتا ہے اس سورۃ کا اتنا ثواب ہے کہ اب اگر ایک آدمی زیادہ ثواب والی سورۃ پڑھ رہا ہے اور کوئی آکر اس سے باتیں پوچھتا یا کرتا ہے ، وہ بار بار سورت جہاں چھوڑی تھی وہیں سے شروع کرتا ہے کیا اس کو اس طرح سورت مکمل کرنے پر پورا ثواب ملے گا یا کوئی کمی ہو گی؟ (حامد رشید ، لاہور) ج: درست ہے اس طرح بھی اس کو پوری سورت کا اجر و ثواب مل جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔کیونکہ فضیلت والی سورتوں میں اجر و ثواب کے لیے لگا تار بلا وقفہ پڑھنے کی قید و شرط کہیں وارد نہیں ہوئی۔ ۲۹/۸/۱۴۲۳ھ س: خود مختار اور کامیابی کے لیے وظیفہ تحریر فرما دیں ؟ (خود مختار یعنی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے) (جاوید احمد) ج: ((اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ)) [1] [’’اے اللہ! تو مجھے کافی ہو جا اپنے حلال کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے اور مجھے بے نیاز کر دے اپنے فضل سے اپنے ماسوا سے ۔‘‘] ۲۸/۲/۱۴۲۱ھ س: گم شدہ چیز کے لیے ﴿اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ﴾ پڑھنا کیسا ہے؟ ۲:…کیااَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّار صبح و شام والی حدیث ضعیف ہے؟نیز اَللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ والی روایت کے بارے میں بھی بتائیں ؟ ج: درست ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اَلَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوآ إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ﴾[البقرۃ:۱۵۶] [’’انہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘]اس میں مصیبۃ کا لفظ عام ہے ۔ گم شدہ شی ٔوالی مصیبۃ کو [1] جامع ترمذی/ابواب الدعوات، حدیث:۳۵۶۳۔