کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 731
پھر عورت کا اس کے مملوک غلام کے ساتھ نکاح نہیں ہوتا تو مندرجہ بالا تعریف کے مطابق مملوک غلام مالکہ عورت کا محرم بنتا ہے۔ جبکہ حدیث ہے: (( من ملک ذارحم محرم منہ فقد عتق علیہ۔))[1] [’’جو شخص اپنے کسی قریبی رشتہ دار کا مالک بنے تو غلام بننے والا آزاد ہی رہے گا۔‘‘]اور اگر یہ مملوک غلام مالکہ عورت کے محرموں سے نہ ہو تو آزاد نہیں ہوتا تو محض مملوک ہونا ہی محرم بننا نہیں ۔ پھر کسی مسلم عورت کی رشتہ دار عورت غیر مسلم ہے ، مثلاً اس کے چچا کی بیٹی یا اس کے ماموں کی بیٹی۔ اب اس کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہے۔ کیونکہ عورت کا عورت کے ساتھ نکاح نہیں ہوتا، جبکہ یہ دونوں آپس میں محرم نہیں اور مسلم عورت پر ایسی عورت سے پردہ کرنا بھی فرض ہے، تو پتہ چلا کہ قاعدہ ’’ عورت کا جس سے کسی وقت بھی نکاح نہ ہوسکے وہ اس سے پردہ نہ کرے۔ ‘‘ درست نہیں ۔ کیونکہ مسلم عورت کا غیر مسلم عورت کے ساتھ نکاح کسی وقت بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ اس سے پردہ کرنا فرض ہے۔ پھر تعریف میں ’’ جن سے کسی عورت کا نکاح ‘‘ کے اندر یہ کسی کا لفظ عجیب ہے۔ اس کا حذف ہی مناسب ہے۔ ۴ / ۲ / ۱۴۲۳ھ ٭٭٭ [1] ابو داؤد؍کتاب العتاق؍باب فیمن ملک ذارحم محرم۔ ترمذی؍کتاب الاحکام؍باب ما جاء فیمن ملک ذارحم محرم۔ ابن ماجہ ؍کتاب العتق ؍باب من ملک ذارحم فھو حرم۔