کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 730
[الدخان: ۳۰] [ ’’ اور بنی اسرائیل کو ہم نے رسوا کرنے والے عذاب سے نجات دی۔ ‘‘ ] ﴿وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓئُ الْعَذَابِ اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا o [المؤمن:۴۵۔۴۶] ﴾ [ ’’ اور آل فرعون خود ہی برے عذاب میں گھر گئے وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ] حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : (( وقولہ (فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک آیۃ) قال ابن عباس وغیرہ من السلف: إن بعض بنی إسرائیل شکوا فی موت فرعون ، فأمر ا للّٰه تعالی البحر أن یلقیہ بجسدہ سویا بلاروح وعلیہ درعہ المعروفۃ علی نجوۃ من الأرض وھو المکان المرتفع لیتحققوا موتہ وھلاکہ ، ولہذا قال تعالیٰ: فالیوم ننجیک۔ أی نرفعک علی نشر من الأرض (ببدنک) قال مجاہد: بجسدک ۔)) [ ’’ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور بعض سلف نے کہا کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک ہوا اس لیے اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور اس پر اس کی معروف زرہ تھی، تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہوجائے اور ان کے لیے عبرت بن جائے۔ مجاہد نے کہا: تیرے جسم کے ساتھ۔ ‘‘ ] رہا اللہ تعالیٰ کا قول: ﴿لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَۃً ط﴾ تو اس سے فرعون کی لاش کا رہتی دنیا تک محفوظ رہنا نہیں نکلتا۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَقُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ o فَجَعَلْنَاھَا نَکَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَمَا خَلْفَھَا ط [البقرۃ:۶۵۔۶۶]﴾ [ ’’ ہم نے ان سے کہا کہ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ پھر ہم نے اس واقعہ کو موجودہ اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت اور متقین کے لیے نصیحت بنادیا۔ ‘‘] تو اس سے کوئی شخص نکالے بندر بنے ہوئے اسرائیلی رہتی دنیا تک محفوظ رہیں گے اور بطور دلیل ’’ وما خلفہا ‘‘ کو پیش کرے تو اس کی یہ بات درست ہوگی؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ تو نمونہ ٔ عبرت بننے بنانے کے لیے فرعون کی لاش یا بندر اسرائیلیوں کے بدنوں کا محفوظ رہنا وہ بھی رہتی دنیا تک کوئی ضروری نہیں ۔ دیکھئے قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب نمونہ عبرت ہیں ، جبکہ ان کی لاشوں اور ان کے بدنوں کے تابوتوں میں یا ویسے ہی محفوظ ہونے کا کوئی بھی قائل نہیں ۔ (۲) .....صفحہ نمبر: ۵۰ پر لکھا ہے: ’’ محرم میں ایسے تمام رشتہ دار شامل ہیں جن سے کسی عورت کا نکاح دائمی یا عارضی طور پر حرام ہو۔ ‘‘ اس تعریف کے مطابق عورت کا دیور ، جیٹھ اور بہنوئی وغیرہ محرم بنتے ہیں کیونکہ عارضی طور پر ان کا نکاح حرام ہے، جبکہ صفحہ نمبر: ۵۱ پر لکھا ہے: ’’ تمام نا محرم رشتہ دار (دیور ، جیٹھ ، بہنوئی،الخ) ‘‘ اب کے ان کو نامحرم قرار دیا گیا ہے۔