کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 73
کچھ کہہ رہے ہیں پوری کائنات میں ان سے زیادہ قابل اطمینان ذریعہ کوئی اور نہیں ہو سکتا اور ان کی سچائی کی دلیل وہ معجزے اور کھلی کھلی نشانیاں ہیں جو انہیں دی گئی ہیں ۔ ایمان قبول کرنے کے لیے شرط بازیاں : کچھ لوگ اس مزاج کے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے لیے شرطیں مقرر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ ہمارے مشورے مان لے گا تو ہم بھی اللہ کو مان لیں گے۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں تو اسے یہ کام کر کے دکھانے ہوں گے ۔یہ تو بعینہ کافروں والی بات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ان کے اقوال اس طرح نقل کیے ہیں ، ہٹ دھرم کافر کہتے تھے: ﴿ وَقَالُوْٓا لَنْ نُّوْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ یَنْبُوْعًا o أَوْ تَکُوْنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْھٰرَ خِلَالَھَا تَفْجِیْرًا o أَوْ تُسْقِطَ السَّمَآئَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا أَوْ تَأْتِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلًا o﴾ [الاسراء:۹۰،۹۲] ’’اور انہوں نے کہا ہم تیری بات ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ تو زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے ، یاتیرے لیے کھجوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے ، یا آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرادے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے، یا خدا اور فرشتوں کو بالکل ہمارے سامنے لے آئے۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ قبولیت ایمان کی خاطر یہ دروازہ کھول دیتا کہ وہ لوگوں کے مشورے ماننے کا پابند ہے تو پھر لوگ کیسی کیسی عجیب و غریب شرطیں پیش کرتے کہ اللہ رات کو دن بنا دے ، سورج کو چاند بنا دے، زمین کو آسمان کی شکل دے دے، مردوں کو عورتیں بنا دے اور کوئی دوسرا آدمی ان کے الٹ شرطیں پیش کرنا شروع کر دیتا۔ تیسرا آدمی قبولیت کے لیے شرط لگاتا کہ فلاں آدمی قتل ہو جائے تو میں ایمان قبول کر لوں گا یا فلاں مر جائے یا فلاں بستی ہی تباہ ہو جائے۔ چوتھا اس کے برعکس شرائط رکھ دیتا۔ اس طرح تو زمین و آسمان میں کہرام مچ جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَھْوَآئَھُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ ط﴾ [المؤمنون:۷۱] ’’اور حق اگر کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام