کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 723
متعین کردیا گیا ہے اور دوسری صورت کی نفی کردی گئی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر فرمایا: ﴿وَالدَّمَ ط [البقرۃ:۱۷۳] ﴾ اور دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا ط [الانعام:۱۴۵] ﴾ [’’ یا بہتا ہوا خون۔ ‘‘ ] اب کوئی ان دونوں مقاموں میں باہمی تضاد سمجھنا شروع کردے تو یہ اس کی خطا ہوگی کیونکہ دوسرے مقام میں پہلے مقام سے مراد کی توضیح کردی گئی ہے کہ ’’ والدم ‘‘ میں دم مسفو ح مراد ہے۔ غیر مسفوح مراد نہیں تو یہ کوئی تضاد نہیں ۔ اس کی دوسری مثال ہے ایک مقام پر فرمایا :﴿یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْأَرْضِ ط﴾[الشوری:۵][’’زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں ‘‘] اور دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا ط﴾[المؤمن:۷][’’ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔‘‘] اب دونوں مقاموں میں کوئی صاحب تضاد سمجھنا شروع کردیں تو یہ ان کی نادانی ہے۔ (۲) .....سورۂ نمل کی آیت نمبر: ۸ اور نمبر: ۹ میں جن چیزوں کا اثبات ہے۔ سورۂ قصص کی آیت نمبر: ۳۰ میں ان میں سے کسی چیز کی بھی نفی نہیں ، اور سورۂ قصص کی آیت نمبر: ۳۰ میں جن چیزوں کا اثبات ہے سورۂ نمل کی آیت نمبر: ۸،۹ میں ان میں سے کسی بھی چیز کی نفی نہیں ۔ لہٰذا دونوں مقاموں میں کوئی تناقض نہیں ۔ جیسے کہ سورۂ حاقہ کی آیت نمبر: ۴۰ میں جن چیزوں کا اثبات ہے ان میں سے کسی چیز کی بھی آیت نمبر: ۴۳ میں نفی نہیں اور جن چیزوں کا آیت نمبر: ۴۳ میں اثبات ہے ، ان میں سے کسی چیز کی بھی آیت نمبر: ۴۰ میں نفی نہیں ۔ لہٰذا ان دونوں آیتوں میں بھی کوئی تناقض نہیں ۔ (۳) .....سورۂ بقرہ کی آیت نمبر: ۵۱ اور سورۂ أعراف کی آیت نمبر: ۱۴۲ کا معاملہ بھی پہلے ذکر کردہ دو مقاموں کی طرح ہی ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر: ۵۱ میں جن چیزوں کا اثبات ہے ان میں سے کسی ایک کی بھی سورۂ اعراف کی آیت نمبر: ۱۴۲ میں نفی نہیں اور جن چیزوں کا سورۂ اعراف کی آیت نمبر: ۱۴۲ میں اثبات ہے ان میں سے کسی ایک کی بھی سورۂ بقرہ کی آیت نمبر: ۵۱ میں نفی نہیں ۔ لہٰذا ان دونوں آیتوں میں بھی کوئی تعارض و تناقض نہیں ۔ ۱۷ / ۱۰ / ۱۴۲۲ھ س: قرآنِ پاک کا ترجمہ کرتے ہوئے سورۂ یوسف کی آیت نمبر: ۲۴ کے اول حصہ کے ترجمہ میں اشکال ہے اس کے دو ترجمے آپ کی خدمت میں پیش کیے ہیں لہٰذا جو اس میں درست ہو اس کی نشاندہی فرماکر شکریہ کا موقعہ دیں ۔ یا اپنی رائے کا اظہار فرمائیں ۔ (۱) .....’’ اور البتہ تحقیق ارادہ کرلیا تھا اس عورت نے یوسف کا ، اور وہ (یوسف) بھی ارادہ کرلیتا اس عورت کا، اگر نہ ہوتی یہ بات کہ دیکھ چکا تھا یوسف برہان اپنے رب کی۔ ‘‘