کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 722
7۔اللہ تعالیٰ کا قول: ﴿فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلَآئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ o﴾ [الانفال:۹] [’’اللہ نے تمہیں جواب دیا کہ میں ایک ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج رہا ہوں ۔ ‘‘ ] 8۔اللہ تعالیٰ کے اقوال: ﴿اِنَّ ا للّٰه لَا یُخَلِفُ الْمِیْعَادَ ط﴾ [ آل عمران: ۹] [’’ بے شک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ ‘‘] ﴿وَلَنْ یُّخْلِفَ ا للّٰه وَعْدَہٗ ط﴾ [الحج:۴۷] [’’ اللہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا۔ ‘‘] ﴿فَـلَا تَحْسَبَنَّ ا للّٰه مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ ط﴾ [ابراہیم:۴۷] [’’ یہ کبھی خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔ ‘‘] ﴿وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ا للّٰه حَدِیْثًا ط﴾ [النسآء:۸۷] [’’ اور کون زیادہ سچا ہے اللہ سے بات میں ۔ ‘‘] ﴿وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ا للّٰه قِیْلًا ط﴾ [النساء:۱۲۲] [’’ اور کون زیادہ سچا ہے ، اللہ سے قول میں ۔ ‘‘] ۱۷ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۲ھ س: قرآن کی چند آیات ایک دوسری کی ضد کی طرح نظر آتی ہیں اس کی وضاحت فرمادیں ۔ (۱) سورۂ الحاقہ :۴۳، الحاقہ:۴۰۔ (۲) نمل: ۸۔۹ ،القصص: ۳۰۔(۳) البقرۃ:۵۱،الأعراف: ۱۴۲۔ (محمد حسین بن عبدالصمد) ج: آپ لکھتے ہیں : ’’ قرآنِ مجید کی چند آیتیں ایک دوسری کی ضد کی طرح نظر آتی ہیں ۔ ‘‘ یہ فقیر إلی اللہ الغنی کہتا ہے آپ کو یا کسی کو تضاد نظر آتا ہے مگر حقیقت اور واقع میں آیات تو آیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ احادیث میں بھی کوئی تضاد نہیں ۔ (۱) .....سورۂ الحاقہ کی آیت نمبر: ۴۰ ہے: ﴿إِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ o﴾ [ ’’ بے شک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے۔ ‘‘ ]اور آیت نمبر: ۴۳ ہے: ﴿تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ o﴾ [’’ رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ ‘‘ ]ان دونوں آیتوں میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ دوسری آیت میں واضح کردیا گیا ہے کہ پہلی آیت میں جس چیز کو قول رسول کریم قرار دیا گیا وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ چنانچہ اس سے پہلے بتایا گیا ہے وہ شاعر اور کاہن کا قول نہیں بعد میں تنزیل من رب العالمین فرماکر واضح کردیا گیا ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھنا شروع کردے ٹھیک وہ شاعر کا قول نہیں ، درست وہ کاہن کا قول بھی نہیں مگر وہ رسول کریم کا اپنا قول تو ہے تو اللہ تعالیٰ نے تنزیل من رب العالمین کہہ کر اس فہم کا ردّ فرمادیا۔ وبعبارۃ اخریقولِ رسول بسااوقات مرسل کا قول ہوتا ہے اور بسااوقات رسول کا اپنا قول ہوتا ہے۔ مرسِل کا قول نہیں ہوتا تو تنزیل من رب العالمین فرماکر قول رسول کریم میں دو صورتوں میں سے پہلی صورت کو