کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 721
قدم رکھے جاتے ہیں کیا یہ قرآن کے ادب کے خلاف ہے؟ (محمد سلیم بٹ) ج: قرآنِ مجید شعائر اللہ میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ ا للّٰه فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ط [الحج:۳۲]﴾ [ ’’ اور جو اللہ کی نشانیوں کی عزت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے۔ ‘‘ ] تو جہاں قرآنِ مجید رکھنے سے قرآنِ مجید کی بے حرمتی و بے ادبی نکلتی ہو وہاں قرآنِ مجید کو رکھنا درست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ ا للّٰه ط ﴾[المآئدۃ:۲] [ ’’ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی بے حرمتی نہ کرو۔ ‘‘ ] ۱۳ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۳ھ س: قرآنی سورتوں کے نام نبی پاکؐ نے منتخب کیے ہیں یا پھر اللہ نے نام کے ساتھ سورت اتاری؟ (ماسٹر عبدالرؤف) ج: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے ہیں اللہ تعالیٰ کی تائید و تصویب حاصل ہے یہ بھی توقیف و وحی کی ایک صورت ہے۔ [تفصیل کے لیے الاتقان فی علوم القرآن النوع السابع عشر ۱۷ سترہویں نوع کا مطالعہ فرمائیں ۔] س: سورۂ آل عمران کی آیت نمبر: ۱۲۴ میں تین ہزار فرشتوں کا ذکر ہے کیا وہ واقعی نازل ہوئے تھے۔ دلیل سے تحریر کریں ؟ (محمد حسین ، کراچی) ج: ہاں نازل ہوئے تھے، اس کے کئی دلائل ہیں ۔ ! اللہ تعالیٰ کا فرمان﴿ بَلٰٓی﴾[آل عمران:۱۲۵] [’’ کیوں نہیں ۔ ‘‘ ] 2۔اللہ تعالیٰ کا قول: ﴿وَمَا جَعَلَہُ ا للّٰه اِلاَّ بُشْرٰی لَکُمْ﴾ [آل عمران: ۱۲۶][ ’’ مدد کی خبر اللہ نے اس لیے دی ہے کہ تم خوش ہوجاؤ۔ ‘‘ ] 3۔اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُکُمْ بِہٖ ط﴾ [آل عمران:۱۲۶] [’’ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اس کے ساتھ۔ ‘‘ ] 4۔ اللہ تعالیٰ کا قول: ﴿لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط﴾ [آل عمران: ۱۲۷] [’’ تاکہ اللہ کافروں کا ایک بازو کاٹ دے۔ ‘‘ ] 5۔اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اَوْ یَکْبِتَھُمْ ط﴾ [آل عمران: ۱۲۷] [’’ یا انہیں ذلیل کرے۔ ‘‘ ] 6۔ ﴿فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ ط﴾ [آل عمران: ۱۲۷] [’’ وہ ناکام ہوکر پلٹ جائیں ۔ ‘‘ ]