کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 72
مسلسل انہیں چھوتی رہتی ہے، اور نہ ہی یہ نگاہ دور کی چیزیں دیکھ سکتی ہے، تو اس کے بعد یقینًا وہ اس نتیجے پر پہنچتے کہ وہ خود اور زمین و آسمان کی حدود میں جو کچھ موجود ہے یہ ایسے اثرات اور کھلی کھلی نشانیاں ہیں جو زبان حال سے اپنے خالق کے وجود کا اعلان کر رہی ہیں ۔ میری نگاہ تو ستاروں کو نہیں دیکھ سکتی حالانکہ ستاروں کو آسمان کی زینت قرار دیا گیا ہے، تو یہ کمزور نگاہ اس ذات اقدس کا ادراک کس طرح کر سکتی ہے جو عرش پر مستوی و متمکن ہے۔ اور یہ ساتوں آسمان اللہ رب العزت و الجلال کی کرسی کی عظمت کے مقابلے میں بس اتنے سے ہیں جیسے سات درہموں کو ڈھال میں رکھ دیا گیا ہو اور عرش الہٰی کے مقابلے میں خود کرسی اتنی ہے جیسے وسیع و عریض صحراء میں لوہے کا ایک کڑا ہو۔ اس دنیا میں جب انسان کی نگاہ سورج کو براہ راست نہیں دیکھ سکتی تو اللہ تعالیٰ جل شانہ کو کس طرح دیکھ سکے گی؟ اور اس ہستی کا مقدس مقام تو یہ ہے کہ کوئی چیز اس جیسی ہو ہی نہیں سکتی۔ ایک زمانہ پہلے ایسے ہو چکا ہے کہ حضرت موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیدار الٰہی کی درخواست کی تو جو کچھ ہوا اس کو قرآن حکیم نے اس طرح بیان فرمایا ہے: ﴿فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج﴾ [الاعراف:۱۴۳] ’’چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا۔‘‘ [مکمل آیت کا ترجمہ یوں ہے: ’’ جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ ’’اے رب مجھے اپنا دیدار کرا دیجیے کہ میں تجھے دیکھوں ۔‘‘فرمایا: ’’ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا، ہاں ذرا سامنے پہاڑ کی طرف دیکھو،اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا ۔‘‘ چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا او رموسیٰ غش کھا کر گر پڑا، جب ہوش آیا تو بولا: پاک ہے تیری ذات ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلے ایمان لانے والا میں ہوں ۔‘‘] ڈاکٹرز، انجینئرز اور محقق اساتذہ جن چیزوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر لوگوں کو بتلاتے ہیں کافروں سمیت تمام لوگ ان پر اعتمار کر کے مان لیتے ہیں ، اس لیے کہ خبر دینے والے سامعین کے نزدیک قابل اعتماد ہوتے ہیں ۔ اگر کافر اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دیں تو وہ بھی اپنے رب کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں ،اور یہ اللہ کے بھیجے ہوئے سچے رسولوں کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ یہ انتہائی سچے اور پارسالوگ اپنے رب کے بارے میں جو