کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 713
اب یہ اللہ کے غضب در غضب کے مستحق ہو گئے ہیں ۔‘‘] نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَضَلُّوْا عَنْ سَوَائِ السَّبِیْل﴾ [المائدۃ:۷۷] [’’ جو پہلے ہی گمراہ ہیں اور بہت لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور صراطِ مستقیم سے بہک چکے ہیں ۔‘‘] اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی پہچان قرآن مجید میں اس طرح آئی ہے: ﴿اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ﴾ [یونس:۶۳][’’جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔‘‘]تو ثابت ہوا کہ ایمان و تقویٰ والے اولیاء اللہ ہیں جن میں ایمان نہیں وہ اولیاء اللہ نہیں ، جن میں تقویٰ نہیں وہ بھی اولیاء اللہ نہیں اور جن میں ایمان و تقویٰ دونوں ہی نہیں وہ بھی اولیاء اللہ نہیں ، قرآن مجید کے بیان فرمودہ اس اصول و معیار کی روشنی میں آپ اپنے سوال میں ذکر کردہ بزرگوں اور دیگر بزرگو ں کی ولایت و عدم ولایت کا فیصلہ فرما سکتے ہیں ۔۔ ۲:.....کرامت، خرقِ عادت چیز کا ظہور یا اظہار ولی اللہ بننے یا ہونے کے لیے کوئی شرط اور ضروری و لازم نہیں ۔ بس ولایت کا معیار ایمان و تقویٰ ہی ہے اس سلسلہ میں آپ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’الفرقان‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔ ۲۴؍۶؍۱۴۲۳ھ س:…حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دریائے نیل کو رقعہ لکھ کر بھیجنا اور پھر دریا میں ڈال دینا اور دریا کا اسی وقت چل پڑنا اور آج تک چلتے رہنا کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟ (ظفراقبال ، نارووال) ج:...یہ واقعہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بحوالہ ابو الشیخ اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں نقل فرمایا ہے ۔ مگر اس کی سند ضعیف و کمزور ہے۔ ۲۰؍۱۲؍۱۴۲۲ھ س:…نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ آدمی آئے اور مسلمان ہوئے ۔ انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی وہ بیمار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو۔ جب وہ تندرست ہو ئے تو جو صحابہ نگران تھے انہیں قتل کر دیا ، آنکھوں میں گر م سلاخیں پھیریں اور اونٹ بھی لے گئے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح قتل کرنے سے روکا ہے ؟ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑا اور قتل کیا اورآنکھوں میں سلاخیں پھیریں ۔ (ابو شرحبیل) ج:…ان کو یہ سزا بطورِ قصاص دی گئی اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ ص﴾ [البقرۃ:۲؍۱۹۴] [’’جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کی مثل زیادتی کرو۔‘‘]نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ﴾[النحل: ۱۶؍۱۲۶] [’’ اور