کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 712
الشہداء بھی ضرور دیکھیں ۔ (۳؍۲۱۲) 3۔...اسد الغابہ ، الاستعیاب اور الاصابہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا ترجمہ دیکھیں ۔ البدایہ والنہایہ لابن کثیررحمہ اللہ الخبیر بھی ضرور دیکھیں ۔ ۱۶؍۱۲؍۱۴۲۳ھ س:...حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ ایک شخص قبر پر لیٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں اس کی جگہ قبر میں ہوتا۔ اس حدیث کی مکمل شرح لکھیں ؟ (حافظ محمد امین محمدی) ج:…اس حدیث کی مکمل تشریح اسی حدیث کے اندر موجود ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حدیث کے آخر میں فرماتے ہیں : ((وَلَیْسَ بِہِ الدِّیْنُ إِلاَّ الْبَلَائُ)) کہ وہ یہ خواہش دین کی وجہ سے نہیں کر رہا ہو گا بلکہ بلا ء و فتن کی وجہ سے یہ خواہش کر رہا ہو گا۔[1] ۲۳؍۴؍۱۴۲۴ھ س:…﴿صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ﴾ ’’اُن لوگوں کے رستے پر چلا جن پر تو نے اپنا انعام کیا نہ کہ اُن لوگوں کے رستے پر جن پر تیرا غضب ہوا۔‘‘ انعام یافتہ اور غضب کیے گئے لوگوں کی تشریح کر دیں ؟ ۲:...اگر ان کی کوئی کرامات ہیں تو وہ بھی ذرا تفصیل سے بیان کر دیں ۔ (ارشد عظیم ، نوشہرہ روڈ ، گوجرانوالہ) ج:…﴿صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ﴾[الفاتحۃ:۷] [’’ان کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا ، ان کی راہ پر نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان کی راہ جو راہ بھول گئے۔‘‘] میں جو منعم علیہم ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیتِ کریمہ میں بیان فرما دیا چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَ مَنْ یُّطِعِ ا للّٰه وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ ا للّٰه عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَج وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًاo﴾ [النسآء:۶۹][’’جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے ، یعنی انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھ اور رفیق ہونے کے لحاظ سے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں ۔‘‘] اور مغضوب علیہم و ضالین اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور وہ لوگ ہیں جو ضلالت میں مبتلا اللہ کے غضب میں غرق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَبَائُ وْ بِغَضَبٍ عَلیٰ غَضَبٍ﴾ [البقرۃ:۹۰] [’’لہٰذا [1] صحیح مسلم؍کتاب الفتن و اشراط الساعۃ؍باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل فیتمنی أن یکون مکان المیت من البلاء۔