کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 710
بھی شامل تھے۔ صحیح بخاری میں ہے: ((عَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَمَّا خَلَعَ أَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ یَزِْیْدَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَہٗ وَوَلَدَہٗ ، فَقَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَقُوْلُ: یُنْصَبُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ وَإِنَّا قَدْ بَایَعْنَا ھٰذَا الرَّجُلَ عَلَی بَیْعِ ا للّٰه وَرَسُوْلِہٖ وَإِنِّیْ لَا أَعْلَمُ غَدْرًا أَعظَمَ مِنْ أَنْ یُبَایِعَ رَجُلٌ عَلٰی بَیْعِ ا للّٰه وَرَسُوْلِہٖ ، ثُمَّ یُنْصَبُ لَہُ الْقِتَالُ ، وَإِنِّیْ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِّنْکُمْ خَلَعَہٗ ، وَلَا بَایَعَ فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ إِلاَّ کَانَتِ الْفَصِیْل بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ)) (۲؍۵۳۔۱)[1] [’’جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص( یزید) کی بیعت اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا ،میں اس سے الگ ہوں ۔‘‘] 3۔...قرآن مجید میں ہے: ﴿لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا﴾[المائدۃ:۷۸] [’’لعنت کیے گئے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔‘‘ ] اس آیت کریمہ کے پیش نظر اگر کوئی صاحب فرمائیں جو لوگ پہلے کافر تھے بعد میں اسلام لے آئے ان پر لعنت جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا﴾ [المائدۃ:۷۸] ۔ آیا آپ ان صاحب کی بات کو درست قرار دیں گے ؟ نہیں ! ہر گز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا کفر معاف کر دیا ہے اس لیے ان پر لعنت جائز نہیں ۔ ادھر بھی معاملہ اسی طرح ہے کیونکہ یزید ’’مغفور لھم‘‘ میں شامل ہے اس کی خطا اللہ تعالیٰ نے معاف فرما اور بخش دی ہے۔ 4۔…شیخ الاسلام محمد صدر الصدور دہلوی سے جو کچھ آپ نے نقل فرمایا اس کی دلیل درکار ہے؟ پیش فرمائیں ، نیز آپ نے میری عبارت نقل فرمائی ’’یزید رحمۃ اللہ علیہ حدیث ’’مغفور لھم‘‘ میں شامل ہے کیونکہ اس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا ‘‘ اس کا حوالہ پیش فرمائیں ۔ [ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری اُمت [1] بخاری؍کتاب الفتن ؍باب اذا قال عند قوم شیئًا ثُمَّ خرج فقال بخلافۃ۔