کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 71
(کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے) خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستے کی انہیں خبرہی نہ ہو۔‘‘ شک و شبہ کے کارخانے: اہل ایمان کو نعمت ہدایت سے محروم رکھنے کے لیے منکرین حق کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ شکوک و شبہات گھڑے جائیں اور ان کی خوب خوب تشہیر کی جائے۔ جو آدمی اپنے عقیدے سے نا واقف ہو گا وہ کسی نہ کسی درجے میں متاثر ہو کر رہے گا اور ملحدین کے شبہات سے بچ نہ پائے گا ۔ متعدد شبہات میں سے ایک شبہ تو وہ ہے جسے دور حاضر کے ملحدین تکرار کے ساتھ دہرا رہے ہیں ، اور یہی بات بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے: ﴿وَإِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسیٰٰ لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی ا للّٰه جَھْرَۃً……﴾ [ البقرۃ:۵۵] ’’ یاد کرو جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں ……‘‘ یہ لوگ سمجھ بوجھ رکھنے والی عقل کو تسلیم کرتے ہیں ، ہواکے وجود کو مانتے ہیں اور زمین میں موجود کشش ثقل کی طاقت کو تسلیم کرتے ہیں جو چیز کو زمین کی طرف کھینچ لاتی ہے، اور ریڈیائی لہروں کو تسلیم کرتے ہیں جو آواز دور دور سے کھینچ لاتی ہے، حالانکہ انہوں نے نہ عقل کو دیکھا ہے نہ ہوا کو دیکھا ہے اور نہ ہی کشش ثقل رکھنے والی طاقت کو دیکھا ہے اور نہ ہی ریڈیائی لہروں کو دیکھا ہے، لیکن انہوں نے عقل کے آثار کو ضرور دیکھا ہے جو عقل مند لوگوں کے کاموں سے ظاہر ہو جاتے ہیں اور انہوں نے ہوا کے آثار کو بھی دیکھا ہے جو درختوں کی ٹہنیاں ہلنے سے نظر آ جاتے ہیں ،اور زمین کی کشش ثقل کو اس طرح محسوس کیا ہے کہ تمام چیزیں زمین ہی کی طرف کھنچتی چلی آتی ہیں اور ریڈیائی لہروں کو اس طرح معلوم کیا ہے کہ ریڈیو سیٹ میں اس کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں ۔ ان چیزوں کے نتائج اور اثرات محسوس کرنے کے بعد انہوں نے عقل ،ہوا، کشش ثقل اور ریڈیائی لہروں کو تسلیم اس لیے کر لیا ہے کہ نگاہ ان لطیف چیزوں کو دیکھ نہیں سکتی تھی۔ چنانچہ نتائج کو کھلی آنکھ سے دیکھ لینے کے بعد عقل نے فیصلہ دے دیا کہ ضرور کوئی قوت ہے جو یہ اثرات پیدا کر رہی ہے۔ اگر منکرین حق کافر تکبر کی روش چھوڑ کر اس بات پر غور کرتے کہ ان کی کمزور نگاہ تو اس ہوا کو بھی نہیں دیکھ سکتی جو