کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 708
لعنت کا جواز ہے؟ کیا یزید فی الواقع سید حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا؟ یزید کو رحمۃ اللہ علیہ کہنا بہتر ہے یا اس سے سکوت افضل ہے؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں ) ج:…قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ کفر و شرک کے علاوہ جتنی خطائیں ہیں جتنے گناہ ہیں وہ قابل مغفرت و معافی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((وَخَطَأَ وَ خَطَأَتْ ذُرِّیَّتُہٗ)) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّائٌ وَ خَیْرُ الخَطَّا ئِیْنَ التَّوَّابُوْنَ)) [1] [’’تمام انسان گناہ گار ہیں اور گناہ گاروں میں بہتر وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں ۔]پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک موقع پر فرمایا:((أَیَّنَا لَمْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ))[2] [’’ہم میں سے کون ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو۔‘‘]پھر صحیح بخاری میں ہے : (( أَوَّلُ جَیْشٍ مِنْ أُمَّتِیْ یَعْزُوْنَ مَدِیْنَۃَ قَیْصَرَ مَغْفُوْرٌ لَّھُمْ)) [3] [’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلا لشکر میری اُمت کا جو قیصر ( رومیوں کے بادشاہ) کے شہر( قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی۔‘‘]اور صحیح بخاری ہی میں ایک مقام پر ہے: ((وَیَزِیْدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَلَیْھِمْ)) [4] [’’اور یزید بن معاویہ ان پر امیر تھے۔‘‘] ۲:.....اس کا جواب نمبر ۱ میں بیان ہو چکا ہے۔ س:…1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمّار کو باغی گروہ قتل کرے گا ، عمّار ان کو جنت کی طرف بلا رہے ہوں گے اور وہ عمّار کو جہنم کی طرف(بخاری)۔ سیدنا عمّار رضی اللہ عنہ جنگِ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں شامل تھے اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے کیا اس حدیث کی رُو سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ باغی گروہ قرار پاتا ہے ؟ نیز حدیث کے آخری فقرے کی وضاحت فرما دیجئے۔ 2۔…عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں ایک مرتبہ ایک شخص نے یزید کا ذکر کرتے ہوئے امیر المؤمنین یزید کے الفاظ استعمال کیے ، تو عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سخت ناراض ہوئے ، انہوں نے فرمایا: تو یزید کو امیر المؤمنین کہتا ہے اور اُسے بیس کوڑے لگوائے کیا یہ بات صحیح ہے؟ ( تہذیب التہذیب ج:۱۱، ص:۳۶۱) بحوالہ خلافت و ملوکیت مودودی ص:۱۸۳) [1] ترمذی؍ابواب صفۃ القیامۃ۔ ابن ماجہ؍کتاب الذھد ؍باب ذکر التوبۃ۔ [2] بخاری؍تفسیر الانعام۔باب ولم یلبسوا ایمانھم بظلم۔ [3] بخاری؍ المجلد الاوّل ؍باب صلوٰۃ النوا فل جماعۃ کتاب التھجد۔ [4] بخاری؍الجہاد؍ما قیل فی قتال الروم۔