کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 707
ان دونوں روایتوں پر آپ سیر حاصل بحث دیکھنا چاہتے ہیں تو شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ، جلد اوّل حدیث:۵۷ تا۶۲ اور ص:۷۶تا ۸۴‘‘ دیکھ لیں ۔ ۱۰؍۱۰؍۱۴۲۰ھ س:…حافظ محمد محدث گوندلوی کی کتاب’’ النّبراس حصہ سوم ، ص:۱۱۰‘‘ میں خیرُالقرونِ قَرْنِیْ کے الفاظ سے حدیث منقول ہے بہت کوشش کے باوجود ان الفاظ کے ساتھ اصل مأخذ تک نہیں پہنچ سکتا ، اگر ان الفاظ کے ساتھ اصل حوالے تک مدد فرما دیں تو ممنون ہوں گا۔ (محمد یوسف نعیم کراچی) ج:...’’خیرو القرونِ قَرْنِیْ‘‘والے الفاظ کے ساتھ مجھے حدیث نہیں ملی۔ شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ کہیں نہیں ۔ واللہ اعلم ۔ [حدیث ان الفاظ کے ساتھ ہے : ((خیرالنَّاسِ قَرْنِیْ)) ’’بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں ۔‘‘][1] [دوسرے الفاظ یہ ہیں : ((خَیْرُ اُمَّتِیْ قَرْنِیْ)) ’’میری اُمت کے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں ۔‘‘[2]] ۲۶؍۱۲؍۱۴۲۲ھ س:…کیا یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں ؟ کیا اسے رضی اللہ عنہ کہا جا سکتا ہے؟ (محمد شکیل ، فورٹ عباس) ج:...اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:﴿اِِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ o جَزَآؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا رَضِیَ ا للّٰه عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ o﴾[البینۃ:۸۔۷] [’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین مخلوق ہیں ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور یہ ان سے راضی ہوئے یہ ہے اس کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔‘‘] ۱۲؍۱۰؍۱۴۲۱ھ س:…واقعہ کربلا سے قبل بااختلاف روایات یزید جو کچھ بھی تھا مگر واقعہ کربلا ، واقعہ حرہ کے بعد بھی کیا وہ ظالم ، قاتل اور فاسق و فاجر قرار نہیں پایا؟ اگر نہیں تو کیوں ؟کیا اتنے عظیم ظالمانہ واقعات کا یزید پر کوئی بوجھ نہیں ؟ ابن زیاد ، ابن سعد ، شمر وغیرہم کس حد تک مجرم ہیں ؟ ۲:.....اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے جو یزید پر لعنت کرتا ہے؟ کیا اس پر فسق کا حکم لگایا جا سکتا ہے ؟ کیا اس پر [1] بخاری؍کتاب فضائل اصحاب النبی؍باب فضائل اصحاب النبی ۔ مسلم؍کتاب الفضائل؍باب فضل الصحابہ ثم الذین یلونھم۔ [2] مسلم؍کتاب الفضائل؍باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم