کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 706
[التوبۃ:۱۱۷۔۱۱۸] [’’اللہ تعالیٰ نے بنی مہاجرین اور انصار پر مہربانی کی جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت اس کاساتھ دیا تھا اگرچہ اس وقت بعض لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے ، پھر اللہ نے ان پر رحم فرمایا کیونکہ اللہ مسلمانوں پر بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے ، اور ان تین آدمیوں پر بھی ( مہربانی کی) جن کا معاملہ ملتوی رکھا گیا تھا ، حتی کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی تنگ ہو گئیں اور انہیں یہ یقین تھا کہ اللہ کے سوا ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ، پھر اللہ نے ان پر مہربانی کی تاکہ وہ توبہ کر یں اللہ تعالیٰ یقینا توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘]ایک اور مقام پر ہے: ﴿لٰکِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ‘ جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ ط وَ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْخَیْرٰتُ ز وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo اَعَدَّ ا للّٰه لَھُمْ جَنّٰتٍ﴾[التوبۃ:۸۸۔۸۹] [’’لیکن رسول اور ان لوگوں نے جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کیا ، ساری بھلائیاں انہی لوگوں کے لیے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیارکر رکھے ہیں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘] صحیح بخاری میں ہے: ((اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ قَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ)) [1] [’’جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا۔‘‘] س:…ایک مشہور حدیث کہ ’’ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کا اتباع کرو گے ہدایت پاؤ گے۔‘‘ یہ حدیث کونسی کتاب میں ہے؟ جلد اور صفحہ نمبر بھی عرض فرما دیں اور اس کی سند میں کونسا راوی ہے جس وجہ سے یہ مقبول نہیں ہے۔ 2۔...اختلاف اُمتی رحمۃ میری اُمت کا اختلاف بھی رحمت ہے۔‘‘ جلد ، صفحہ ؟ یہ حدیث کی کونسی کتاب میں ہے ، اس میں کونسا راوی ضعیف ہے کہ مقبول نہیں ہے؟ (طاہر ندیم ، لاہور) ج:…یہ روایت موضوع ہے اس کو حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ تعالیٰ نے جامع العلم (۲؍۹۱) میں اورحافظ ابن حزم رحمہ اللہ تعالیٰ نے’’الاحکام (۶؍۸۲) میں ذکر کیا ہے ، اس کی سند میں سلام ابن سلیم سلام بن سلیمان بھی کہا جاتا ہے راوی الموضوعات اورمتفق علی ضعفہ ہے ۔ 2۔.....بے اصل ہے کسی مستند کتاب میں نہیں ملتی اس کی کوئی سند نہیں نہ صحیح ، نہ حسن ، نہ ضعیف اور نہ ہی موضوع۔ [1] بخاری؍کتاب المغازی؍باب فضل من شھدبدراً