کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 705
وَبَرَکَاتُہٗ ط عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ﴾ [ہود:۷۳] [’’تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں اے اس گھر کے مالکو] میں ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ سارہ رضی اللہ عنہا مراد ہیں ۔ کما ہو مقتضی السیاق والسباق۔ ۱۳؍۱؍۱۴۲۴ھ س:…صحابی کا ذکر آئے تو رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے کیا یہ کسی غیر صحابی کے نام کے ساتھ بھی بولا جا سکتا ہے؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں ) ج:…یہ عرف ہے ورنہ قرآن مجید میں ہے:﴿اِِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ o جَزَآؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا رَضِیَ ا للّٰه عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ o﴾ [البینہ:۸۔۷] [’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین مخلوق ہیں ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ ان سے راضی ہوئے یہ ہے اس کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔‘‘] ۲۰؍۷؍۱۴۲۱ھ س:…صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپس میں لڑائیاں بھی ہوئیں اور شہید بھی ہوئے ، پھر یہ جنتی کیسے ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ مسلمان کو قتل کرنے کی کوشش میں جا کر قتل ہوئے ۔ دلیل سے وضاحت کریں ؟ (محمد حسین ، کراچی) ج:…اللہ تعالیٰ نے ان کی لغزشیں معاف کر دی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہو چکے ہیں ، قران مجید میں ہے: ﴿وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ﴾[آل عمران:۱۵۲] [’’اور البتہ تحقیق اس نے معاف کیا تم کو۔‘‘] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ لا رَّضِیَ ا للّٰه عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَ اَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ o ﴾[التوبۃ:۱۰۰] [وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پر ان کی پیروی کی اللہ ان سب سے راضی ہوا۔ اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘] ایک اور مقام پر ہے: ﴿لَقَدْ تَّابَ ا للّٰه عَلَی النَّبِیِّ وَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ م بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ ط اِنَّہ‘ بِھِمْ رَئُ فٌ رَّحِیْمٌ o وَّ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاط