کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 70
کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی ا للّٰه بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلاَ ھُدًی وَّلَا کِتَابٍ مُّنِیْرٍ o﴾ [ الحج:۸] ’’ بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ کافر کا حال یہ ہوتا ہے کہ بڑے گھمنڈ سے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو جھٹلا دیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَحَدُوْ بِھَاوَاسْتَیَقَنَتْھَا أَنْفُسُھْم ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا ط﴾ [النمل:۱۴] ’’انہوں نے سرا سر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے ۔‘‘ اور کافر ہمیشہ حق و باطل کو گڈمڈ کر کے حقیقت واقعہ الجھانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ o﴾ [البقرۃ:۴۲] ’’ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔‘‘ اور کافروں کی ایک پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے راستے سے دوسروں کو روکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ ا للّٰه قَدْ ضَلُّوْاضَلَالاً بَعِیْدًا o﴾ [النساء:۱۶۷] ’’ جو لوگ اس حق کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینًا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔‘‘ راہ کفر پر چلنے کے لیے اندھی تقلید: منکرین حق کی واضح ترین نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ ناقابل تردید دلائل مل جانے کے بعد بھی وہ ایمان کو قبول نہیں کرتے ، بلکہ بلادلیل کفر کو سینے سے لگا لیتے ہیں ، آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کے علاوہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اس رویے کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: ﴿ وَإِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا إِلٰی مَآ اَنْزَلَ ا للّٰه وَ إِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَنَا اَوَ لَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ o﴾ [المائدۃ:۱۰۴] ’’ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس قانو ن کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر کی طرف تو جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کار کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے