کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 699
سالم بنسبت نافع کے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ ثابت ہے یعنی کعب والی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح موقوف ہے۔ پس ممکن ہے کہ وہ اسرائیلی روایت ہو۔‘‘] پھر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ ہی اس بارے میں موقوف و مقطوع روایات نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں : ((وحاصلھا راجع فی تفصیلھا إلی أخبار بنی اسرائیل إِذ لیس فیھا حدیث مرفوع صحیح متصل الاسناد إلی الصادق المصدوق المعصوم الذی لا ینطق عن الھوی ، و ظاہر سیاق القرآن إجمال القصۃ من غیر بسط ، ولا إطناب فیھا ، فنحن نؤمن بما ورد فی القرآن علی ما أرادہ اللّٰه تعالیٰ ، و اللّٰه اعلم بحقیقۃ الحال))[’’ اس کا زیادہ تر دارو مدار بنی اسرائیل کی کتابوں پر ہے کوئی صحیح مرفوع متصل حدیث اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اور نہ قرآنِ کریم میں اس قدر بسط و تفصیل ہے پس ہمارا ایمان ہے کہ جس قدر قرآن میں ہے صحیح اور درست ہے اور حقیقت حال کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔‘‘] دومۃ الجندل کی ایک عورت والی روایت بھی مرفوع نہیں ، پھر اس میں وہ عورت مجہول ہے ۔ حافظ ابن کثیر نے بھی اس کو اثر غریب اور سیاق عجیب قرار دیا ہے ۔ اس لیے روایت ضعیفہ کو قرآن مجید کی تفسیر میں ذکر کرنا درست نہیں ۔ واللہ اعلم ۲۷؍۱؍۱۴۲۱ھ س:…حافظ صاحب عرض یہ ہے کہ بندہ نے ایک بار آپ سے سوا ل کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے کہ ’’آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کس جگہ پید اکیا گیا؟ ‘‘ آپ نے کہا کہ انہیں پیدا نہیں کیا گیا ۔‘‘ پھر میں نے کہا کہ چلو کس جگہ بنایا گیا ہے ان کو ؟ تو آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جنت میں ہی تھے تو وہیں بنائے گئے ہوں گے۔‘‘ تو بات یہ ہے کہ میں نے مختصر صحیح مسلم ( پاکٹ سائز) جو کہ دار السلام سے طبع ہوئی ، اس میں سے حدیث پڑھی ہے کہ: ((عن أبی ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ: خَیْرُ یَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِیْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلاَّ فِیْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ)) [’’بہترین دن جس پر سورج طلوع ہو کر چمکے جمعہ کا دن ہے ۔ اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن جنت میں داخل کیے گئے ، اسی دن جنت سے ( زمین پر) اُتارے گئے ، اور قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہو گی۔] (ابواب الجمعۃ؍باب فضل یوم الجمعۃ) اور قرآن مجید کی آیت ہے کہ : ﴿اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ ا للّٰه کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ