کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 69
پریشان حال کی التجا فریاد سننے والا: ہر انسان کے لیے ممکن ہے کہ اپنے رب کو بآسانی پہچان لے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے دیکھ لے ۔ پھر دیکھے کہ اس دعا کے نتائج کس طرح ظاہر ہوتے ہیں ۔ کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ اہل ایمان توبہ کرتے ہوئے اور حالت پریشانی میں بارش کی دعا کرنے نکلے اور فوراً ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا سن لی، اور یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ جس بستی یا شہر کے افراد دعا کے لیے نکلے وہاں تو خوب بارش ہوئی اور ارد گرد کی بستیوں یا شہروں پر ایک قطرہ بھی نہیں گرا۔ اور کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ دعا کی برکت سے اللہ نے پریشان حال لوگوں کی مصیبتیں ٹال دی ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْٓئَ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآئَ الْأَرْضِ ط ئَ إِلٰہٌ مَّعَ ا للّٰه ط قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ o﴾ [النمل:۶۲] ’’ اور کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جب کہ وہ اسے پکار ے؟ اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو)تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی ( یہ کام کرتا) ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔‘‘ اور شاعر نے کیا خوب کہا ہے: ’’ کتنی ہی بار مسلمانوں کو قحط سالی سے واسطہ پڑا ہے تو غریب امیر تمام لوگ دعا کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے قحط سالی سے چھٹکارے کی درخواست کی۔ ان لوگوں کو کامیابی ہوئی اور اس مصیبت سے جان چھوٹ گئی۔ کیا یہ سب کچھ کسی بت یا فطرت کا کارنامہ تھا یا یہ اس سمیع ذات کی مہربانی تھی جو مصیبتوں کو ٹال دیتی ہے؟‘‘ دلائل ایمان کے مقابلے میں کافروں کا کردار: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے دلائل بہت زیادہ ہیں ، جتنی اللہ کی مخلوق ہے اتنے ہی اللہ تعالیٰ کی ذات کے دلائل ہیں ، اس لیے ہر مخلوق اپنے خالق کے وجود کا اعلان کرتی ہے، لیکن منکرین خدا ان دلائل سے کچھ حاصل نہیں کر سکتے، اس لیے کہ ان کے دل ہی بیمار ہیں ، ہدایت کو پا لینے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور مریض دلوں کا حال کچھ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ کافر کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے منہ پھیر لیتا ہے اور باطل دلائل کی بنیاد پر جھگڑا