کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 688
کافروں نے اپنے دل میں جاہلیت کی ضد کی طرح ضد باندھ لی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تسلی اپنے رسول پر اور مومنوں پر نازل کی۔ اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر جمائے رکھا۔ یہی لوگ اس (پرہیزگاری) کے حق دار اور لائق بھی تھے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ [الفتح:۲۴تا۲۶][1] اس حدیث میں جہادی ونگ بناکر گوریلا کاروائیاں کرنے کا ثبوت ہے۔ تو اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اس قصہ میں کچھ اعتراضات ہیں اور پھر ان کا تذکرہ بھی نہ کیا اور جب یہ حدیث ذکر کی گئی کہ تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے ہوں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس فتنہ میں بہتر شخص وہ ہوگا جو اپنے مویشیوں میں رہ کر ان کا حق ادا کرے اور اپنے رب کی عبادت کرے اور وہ آدمی جو اپنے گھوڑوں پر سوار ہوکر دشمن کو ڈرائے اور دشمن اسے ڈرائیں ۔ [2] تو اس کی بھی ناپائیدار تاویلیں کیں ۔ ہم آپ سے امید کرتے ہیں کہ آپ دونوں موقفوں میں فیصلہ فرمادیں ۔] ج: ترجمہ:[آپ کا خط پہنچا آپ نے اپنا درست مؤقف بیان کیا ہے اور تمہارے بھائی نے کوئی ایسی دلیل نہیں پیش کی جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ اِتَّبِعُوْا مَآ أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖ اَوْلِیَآئَ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ﴾[الاعراف:۳]’’ تم لوگ اس کی اتباع کرو، جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کا اتباع مت کرو۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو۔‘‘ اور تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا حکم ایمان والوں کو دیا ہے اور جو قید آپ کے بھائی نے لگائی ہے کہ خلیفہ اور حاکم کے حکم و اجازت سے جہاد ہوگا وہ قید اللہ تعالیٰ نے نہیں لگائی۔ ] ۱۱ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۴ھ س: حال ہی میں اخبار میں ایک سرخی شائع ہوئی۔ چیچن مجاہدین کی ایک عورت ڈھائی من کے قریب بارود جوکہ گاڑی میں تھا، روسی کیمپ کے اندر داخل ہوئی۔ گاڑی بارود سے تباہ ہوگئی اور ساتھ وہ خود بھی ( مرگئی) شہید ہوگئی۔ کیا ایسی کاروائی شہادت ہے یا خود کشی؟ (ابوشرحبیل) [1] صحیح البخاری ؍ کتاب الشروط ؍ باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع أھل الحرب وکتابۃ الشروط ، صحیح مسلم ؍ کتاب الجہاد والسیر ؍ باب صلح الحدیبیۃ فی الحدیبیۃ [2] جامع ترمذی ؍ ابواب الفتن ؍ باب الرجل یکون فی الفتنۃ