کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 687
تو ابوبصیر نے اچانک تلوار مار کر اسے ٹھنڈا کردیا۔ دوسرا شخص بھاگ نکلا، حتی کہ مدینہ آن پہنچا اور ہانپتے ہوئے مسجد نبوی میں داخل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: اس نے یقینا کوئی خوف دیکھا ہے۔ چنانچہ جب وہ آپ کے قریب پہنچا تو کہنے لگا: واللہ! میرا ساتھی قتل ہوچکاہے اور مجھے بھی مار دیا جائے گا۔ اسی دوران سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور عرض کرنے لگے: یانبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اللہ کی قسم! اللہ نے آپ کے عہد اور ذمے کو پورا کردیا ہے کہ آپ نے مجھے ان کی طرف واپس لوٹادیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات عطا فرمادی ہے۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کی بربادی ہو، اگر اسے کوئی ساتھی مل جائے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکانے والا ہے۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اسے کفار کے حوالے کردیں گے۔ چنانچہ وہ مدینہ سے نکل کر ساحل سمندر پر آگئے۔ ادھر سیدنا ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ بھی چھوٹ گئے اور بھاگ کر ابوبصیر سے آملے۔ اب قریش کا جو شخص بھی اسلام لاکر بھاگتا وہ ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے آملتا۔ حتی کہ ایسے مسلمانوں کی ایک جماعت اکٹھی ہوگئی۔ پھر واللہ! مجاہدین کی یہ جماعت شام کی طرف آنے جانے والے جس قریشی قافلے کی خبر سنتے تو اس کے ساتھ دو دو ہاتھ کرتے۔ اہل قافلہ کو قتل کرتے اور ان کے اموال پر قبضہ کرلیتے۔ (اس صورت حال سے بے بس ہوکر) قریش مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ اور رشتہ داری کے واسطے دے کر پیغام پہنچایا کہ آپ انہیں اپنے پاس بلالیں اور اب جو بھی آپ کے پاس آئے گا وہ مامون ہوگا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیج کر بلوالیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : ’’ (اے مسلمانو!) وہی اللہ تعالیٰ ہے، جس نے تمہیں کافروں پر غلبہ دینے کے بعد عین مکہ کی سرحد پر ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ یہ مکہ والے وہی تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا اور تمہارے قربانی کے جانوروں کو بھی روک دیا اور وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ پر نہ پہنچ سکے۔ اگر (مکہ میں اس وقت) چند مسلمان مرد اور چند مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں جن کا تم کو علم نہ تھا کہ تم ان کو بھی (کافروں کے ساتھ) روند ڈالتے، پھر تم کو ان کی طرف سے نادانستہ نقصان پہنچ جاتا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے۔ اگر یہ چند مسلمان مرد اور عورتیں الگ ہوجاتے تو ہم (تمہارے ہاتھوں سے) ان کافروں کو دردناک عذاب پہنچاتے۔ (اے نبی! وہ وقت یاد کر) جب ان مکہ کے