کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 686
کے حکم اور اجازت کے بغیر جہاد نہیں ہوسکتا اور موجودہ زمانہ میں دنیا کے اندر جہادی سرگرمیوں پر لفظ جہاد صادق نہیں آتا، بلکہ مجاہدین اور ان کے ساتھی فتنہ میں ہیں اور سلف کے راستہ سے اعراض کرنے والے ہیں ، کیونکہ انہوں نے علیحدہ نظم اور جھنڈوں کے ساتھ مختلف جہادی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں ۔ جس کی مثال قرونِ اولیٰ سے نہیں ملتی اور حق بات یہ ہے کہ یہ جہادی لوگ خواہش پرست ہیں اور انہوں نے اپنی خواہش کا نام جہاد رکھا ہوا ہے اور عام مسلمان، تمام ملکوں میں جہاد اور قتال کے مکلف نہیں ہیں ۔ جہاد کا معاملہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ، جہاد کریں یا نہ کریں ۔ اپنا حق ادا کریں یا نہ کریں ۔ عام مسلمان سے جہاد کے چھوڑنے پر سوال نہیں کیا جائے گا۔ عام مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اہل کو ادب و علم سکھائے۔ اور اس نے کہا کہ تم علماء سے وضوء اور طہارت وغیرہ کے مسائل پوچھتے ہو، لیکن گردنوں کو کٹوانے اور جانوں کو قربان کرنے کا جوبڑا مسئلہ ہے وہ تم علماء کی پرواہ کیے بغیر اپنی مرضی سے کرتے ہو۔ اور جب ہم نے اس فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے دلیل دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میری امت میں سے ایک گروہ حق پر رہتے ہوئے قتال کرتا رہے گا اور وہ قیامت تک غالب رہے گا۔‘‘ ایک روایت میں الفاظ یوں ہیں : ’’ ایک گروہ مسلمانوں میں سے ہمیشہ حق پر قائم رہتے ہوئے قتال کرتا رہے گا، وہ اپنے مخالفین پر قیامت قائم ہونے تک غالب رہے گا۔ ‘‘[1] تو کہنے لگے کہ اس سے مراد محدّثین کی جماعت ہے جو یُقَاتِلُوْنَ کے لفظ سے غافل ہوگئے۔ اور جب ہم نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور ابوجندل رضی اللہ عنہ کے جہاد کا ذکر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سکوت کا ذکر کیا اور کہا کہ اس زمانہ میں کمزور مسلمانوں کا جہاد حق اور صواب ہے۔ ابوبصیر اور ابوجندل رضی اللہ عنہما کا جہاد: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کی تکمیل کے بعد مدینہ واپس لوٹے تو قریش کا ایک آدمی ابوبصیر بن اسید ثقفی رضی اللہ عنہ مسلمان ہوکر آپ کے پاس حاضر ہوگیا۔ چنانچہ قریش نے اس کی تلاش میں دو آدمی روانہ کیے۔ جنہوں نے مدینہ پہنچ کر آپ سے کہا: عہد صلح کا پاس کیجئے جو خود آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو ان کے حوالے کردیا جو اسے لے کر مکہ کی طرف چل پڑے۔ جب ’’ذوالحلیفہ ‘‘ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ٹھہر کر اپنی کھجوریں کھانے لگے۔ ابوبصیر بولے: اپنی تلوار ذرا دیجئے میں اس کو دیکھ لوں ۔ اس نے تلوار ابوبصیر کے حوالے کردی [1] صحیح مسلم ؍ کتاب الإمارۃ ؍ باب قولہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم لا تزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق لا یضرہم من خالفھم ، صحیح بخاری ؍ کتاب التوحید ؍ باب قول ا للّٰه تعالیٰ: انما قولنا لشیء