کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 684
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا کیا جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوگئیں ؟ تو آپ نے فرمایا: یہ اعراف والے ہیں ۔ [1] آپ کے سوال والی بات بھی بعض روایات میں مذکور ہوئی ، مگر وہ اتنی پختہ نہیں ۔ [2] واللہ اعلم۔ س: کیا کشمیر کا جہاد فرض عین ہے، جبکہ کوئی شرعی امیر نہیں ۔ جس طرح لشکرطیبہ والے کرتے ہیں کہ مار کر بھاگ جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے بعض اوقات کشمیریوں پر ظلم بھی ہوتا ہے۔ کیا شہید ہونے والا شہید ہے اور اس کو 70 افراد کی سفارش کا حق دیا جائے گا؟ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا جہاد ہند کی خواہش کرنے والی حدیث کیسی ہے؟ وضاحت کریں ۔ (محمد شکیل،فورٹ عباس) ج: جہاد و قتال کفار کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ نیز فرمایا: ﴿ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ ﴾’’ تم پر جہاد فرض کیا گیا۔‘‘ [البقرۃ:۲؍۲۱۶]تو بقدر استطاعت جہاد فرض عین ہے ، تو اس فرض عین کو ادا کرتا ہوا کوئی مومن اللہ کو پیارا ہوجائے تو وہ شہید ہی ہے اس میں کشمیر کی کوئی تخصیص نہیں نہ ہی جہاد کے لیے امیر و امام مزعوم کی شرط کہیں وارد ہوئی ہے۔ غزوہ ہند والی نسائی شریف کی حدیث صحیح ہے۔ [ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میری امت کے دوگروہوں کو اللہ نے جہنم سے آزاد فرمایا ہے۔ ایک وہ گروہ جو غزوۂ ہند کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوگا۔‘‘ [3] ’’ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا۔ اگر میں نے اس کو پالیا تو میں اپنی جان اور مال اس میں قربان کردوں گا۔ اگر میں شہید ہوگیا تو افضل شہداء سے ہوں گا اور اگر واپس آیا تو میں ابوہریرہ (آگ سے) آزاد ہوں گا۔‘‘[4] ۱۲ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۱ھ س: (( قال أخونا المولوی رفیق الرّحمٰن النزیل بالشارقۃ من الإمارات العربیۃ المتحدۃ کما یلی، لا جہاد بغیر إذن الإمام وأمرہ ولا یصدق اسم الجہاد علی جمیع جہود المسلمین العسکریۃ فی أنحاء العالم فی ھٰذا الزمن بل أصحابھا ومن لحِقَھا مفتونون منحرفون عن جادۃ السلف و منہجھم لانھم حزّبوا أحزابا جہادیۃ ذات الویۃ وأنظمۃ علی حدۃ لانظیر لھا فی القرون المشہود لہا بالخیر والحقّ أن ھٰؤُلاء [1] تفسیر ابن کثیر ، سورۃ الأعراف:۴۶ [2] حوالہ سابقہ [3] النسائی جلد:۲ ، کتاب الجہاد ، غزوۃ الہند [4] النسائی، جلد :۲ ، کتاب الجہاد، غزوۃ الہند