کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 683
نہیں کرپاتے۔ اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اس کی ملاقات کے شوق کا سوال کیا۔ [1] اور یہ شوق و ذوق بڑی نعمتوں میں سے ہے، لیکن اس نعمت کے لیے بطور سبب کچھ اقوال و اعمال ہیں ، جن سے اس نعمت کا حصول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اقوال کو سنتا اور اعمال کو جانتا ہے۔ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ اس نعمت کا اہل کون ہے؟ چنانچہ ارشاد ہے: ﴿ وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ ط﴾ [الأنعام:۵۳] ’’ اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمایا۔‘‘ لہٰذا جب بندہ سے کوئی نعمت فوت ہوجائے تو اسے اپنے لیے یہ آیت پڑھنا چاہیے: ﴿ أَلَیْسَ ا للّٰه بِأَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ ﴾ [الأنعام:۵۳] ’’ کیا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو جانتا نہیں ۔ ‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ایک دوسری تسلی یہ دی کہ : ’’ اللہ کی راہ میں ان کا جہاد ان کے لیے ہے ، ورنہ اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘ [العنکبوت:۶ ] اس طرح جہاد کا فائدہ خود بندوں کو حاصل ہوتا ہے ، پھر بتایا کہ اس جہاد کی وجہ سے ان کو صالحین کی جماعت میں شامل کرے گا۔ مزید اس شخص کا حال بتایا جو بغیر بصیرت کے ایمان میں داخل ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص لوگوں کی طرف سے پہنچائی جانے والی تکلیف کو اللہ کے اس عذاب کی طرح سمجھتا ہے ، جس سے بچنے کے لیے مومن ایمان لاتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اپنے لوگوں کی مدد کرتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ: ’’ میں تو تمہارے ہی ساتھ ہوں ، حالانکہ اس کے سینہ میں نفاق چھپا ہوا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔‘‘ [العنکبوت: ۱۰] ۱۳ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۲ھ س: جہاد فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟ کیا اصحاب اعراف سے مراد وہ لوگ ہیں جو والدین کی اجازت کے بغیر جہاد کرتے ہیں ؟ (محمد افضل ، سوکن ونڈ) ج: جہاد فرض عین ہے، لیکن بقدر استطاعت اور والدین کی اجازت سے۔ [ ’’ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی، آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ۔ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں میں جہاد کرو۔‘‘][2] [1] نسائی ؍ سہو؍ باب نوع آخر وابن حبان و سندہ قوی أخرجہ أحمد فی المسند [2] بخاری ؍ کتاب الجہاد ؍ باب الجہاد باذن الأبوین