کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 679
بذریعہ اخلاص، اور دوسری ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بذریعہ اتباع۔ اسی طرح نفس کے اور شیطان کے ساتھ جہاد بھی فرض عین ہے۔ کوئی بشر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں اور کوئی کسی کی نیابت نہیں کرسکتا۔ کفار و منافقین سے جہاد کبھی فرض عین ہوتا ہے اور کبھی فرض کفایہ۔ اگر ضرورت کے مطابق لوگ اس میں مشغول رہے تو باقی پر فرض نہیں ہوتا۔ جہاد میں مومن کامل کا امتحان اللہ تعالیٰ کے نزدیک کامل ترین انسان وہ ہے جو جہاد کی ان تمام قسموں اور مرتبوں میں کامل ترین اترے، پھر کمال کے بھی درجے ہیں ۔ بعض معمولی ہیں ، بعض بلند ہیں ، بعض بلند تر ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ جہاد کی ان سب قسموں میں بلند ترین درجہ حاصل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ کی نظر میں آپ تمام انسانوں سے افضل و اشرف تھے۔ آپ بعثت کے وقت سے وفات کے دن تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں پورا پورا جہاد کرتے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ یٰٓأَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ o قُمْ فَأَنْذِرْ o وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ o وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ o﴾ [المدثر:1۔ ۴] ’’ اے چادر پوش! اٹھ اور ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی کر اور کپڑوں کو پاک کر۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعوت کے لیے فی الفور آمادہ اور کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سونپی ہوئی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینے لگے۔ لوگوں کو دعوت حق دینے میں شب و روز خاموشی سے اور علی الاعلان مشغول ہوگئے۔ پھر جب آپ پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ: ﴿ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ o﴾[الحجر:۹۴] ’’ جس چیز کا آپ کو حکم ہوا ہے، اسے کھول کر بیان کریں ۔‘‘ تو اس وقت آپ علانیہ طور پر دعوت دین دینے لگے اور کسی کی ملامت وغیرہ کی پرواہ کیے بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کا اعلان شروع کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے چھوٹے، آزادو غلام ، مرد و عورت ، جن و انس ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا اور اس کے دین کی دعوت دے دی۔ کفار نے جب دیکھا کہ ان کے آبائی دین کی برملامذمت ہورہی ہے تو غیظ و غضب سے بھرگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پیروان اسلام کو سخت سے سخت تکلیفیں دینے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسکین دی کہ گھبرانے اور مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں ۔ تمام انبیاء کرام کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے کہ جھٹلائے گئے اور گوناگوں