کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 678
کرنے میں جدو جہد کرنا۔ پہلے درجہ میں کامیابی ’’ یقین ‘‘ سے حاصل ہوتی ہے اور دوسرے درجہ میں کامرانی ’’ صبر ‘‘ سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ﴿ وَجَعَلْنَا مِنْھُمْ أَئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا صلے وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ﴾ [السجدۃ:۲۴] ’’ اور بنادیئے ہم نے ان میں سے امام جو راہ چلاتے ہمارے حکم سے، کیونکہ انہوں نے صبرو استقامت دکھائی اور یقین کرتے رہے ہماری نشانیوں پر۔‘‘ 3۔ منافقین و کفار سے جہاد کے بھی چار درجے ہیں : (۱) قلب سے۔ (۲) زبان سے۔ (۳) مال سے۔ (۴) جان سے۔ کفار کے ساتھ جہاد کو ہاتھ کے ساتھ اور منافقین کے ساتھ جہاد کو زبان کے ساتھ زیادہ تعلق ہے۔ 4 ۔ ظالمین اور اہل بدعت و منکرات سے جہاد کے صرف تین درجے ہیں : پہلا ہاتھ کے ذریعہ اگر قدرت ہو، دوسرا زبان کے ذریعہ جبکہ پہلی صورت ممکن نہ ہو، تیسرا دل کے ذریعہ جبکہ سابقہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں ۔ اس طرح مجموعی طور پر جہاد کی تیرہ قسمیں ہوئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ جو کوئی جہاد کے بغیر یا کم از کم اس کی تمنا کیے بغیر مرجائے۔ اس کی موت نفاق کے ایک حصہ پر ہوئی۔‘‘ [1] جہاد ہجرت سے مکمل ہوتا ہے اور ہجرت و جہاد دونوں ایمان کے ساتھ صحیح و مکمل ہوتے ہیں ۔ جہاد کی ان تمام قسموں کی توفیق صرف انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے ، جو رحمت الٰہی کے امیدوار اور قرب باری تعالیٰ کے لیے بے قرار ہوتے ہیں ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ إِنَّ الَّذِیْنَ ئَامَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ ا للّٰه أُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ ا للّٰه ج وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o﴾[البقرۃ:۲۱۸] ’’ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا ، اللہ کی راہ میں ، وہی اللہ کی رحمت کی امید کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘ جس طرح ہر شخص پر ایمان فرض ہے، اسی طرح دو طرح کی ہجرتیں ہمہ وقت فرض ہیں ۔ ایک ہجرت اللہ کی طرف [1] مسلم کتاب الجہاد؍باب ذم من مات و لم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو۔