کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 677
’’ اسی نے تم کو برگزیدہ بنایا اور دین کے سلسلہ میں تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں رکھی۔ ‘‘ آیت میں حرج سے تنگی مراد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے آسان دین دے کر بھیجا گیا ہے۔ [1] تو دین میں آسانی سے مراد عقیدہ توحید اور عمل میں آسانی مراد ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر دین، روزی، عفو اور مغفرت کے سلسلے میں بہت زیادہ وسعت سے کام لیا ہے اور جب تک جسم میں جان ہوتوبہ کا موقع ہے۔ ہر برائی کا کفارہ ہے۔ حرام کے بدلہ میں حلال چیز ہے۔ ہر تنگی سے پہلے اور بعد میں آسانی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ایسی تکلیف نہیں دیتا، جس کی بندوں کو طاقت نہ ہو۔ جہاد کے درجات و مراتب اس وضاحت کے بعد یہ جان لینا چاہیے کہ جہاد کی چار قسمیں ہیں : (۱)نفس سے جہاد ۔(۲) شیطان سے جہاد۔(۳) کفار اور منافقین سے جہاد۔ (۴) جہاد ارباب الظلم والمنکرات و البدع۔ 1 ۔ جہاد نفس کے چار درجات ہیں : ایک یہ کہ ہدایت اور دین حق کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش اور نفس کو اس کی جستجو پر مجبور کیا جائے۔ دوسرے تحصیل علم کے بعد عمل کے لیے نفس پر جبر اور اس سے جہاد کرے۔ تیسرے دعوت حق میں مصروف ہونا ، ورنہ صاحب حق ان بدبختوں میں گنا جائے گا، جو اللہ کی اتاری ہوئی ہدایت کو چھپاتے ہیں ۔ چوتھے دعوت کی راہ میں جو مصائب و آلام پیش آئیں ، انہیں صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرنے کے لیے نفس کو آمادہ کرنا۔ جس خوش نصیب نے جہاد نفس کے یہ چاروں مرحلے کامیابی سے طے کرلیے، ربانی ہوگیا، کیونکہ سلف کا اس بات پر اجماع ہے کہ عالم اس وقت تک عالم ربانی نہیں بن سکتا ، جب تک حق کو نہ پہچان سکے، اس پر عمل نہ کرے اور دوسرے کو بھی نہ سکھلائے اور اس کی طرف دوسروں کو دعوت نہ دے۔ 2 ۔ شیطان سے جہاد کے دو درجے ہیں : پہلا درجہ یہ ہے کہ شیطان ایمان کے اندر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ اس معرکہ میں اس سے دست و گریبان ہونا۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ شیطان کی طرف سے جن فاسد ارادوں اور شہوتوں کی تلقین ہوتی ہے، ان کے رد [1] أخرجہ الخطیب البغدادی فی تاریخہ:۷؍۲۰۹ من حدیث جابر وسندہ ضعیف