کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 675
چونکہ افضل ترین جہاد یہ ہے کہ شدید معارضت کے موقع پر حق بات کہی جائے، جیسے جابر و ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنا، جس سے ایذاء کا خطرہ بھی ہو، اس قسم کے جہاد میں انبیاء کرام کا حصہ کافی ہوتا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ میں کامل اور اعلیٰ ترین مجاہد تھے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کے مقابلے میں کیا جانے والا خارجی جہاد بندے کے داخلی جہاد نفس کی فرع اور شاخ ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجاہد وہ ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اپنی ذات و نفس سے جہاد کیا۔ ‘‘[1] تو ظاہر ہے کہ جہاد بالنفس جہاد بالعدو پر مقدم ہے۔ یہ دونوں دشمن ہیں اور بندے کو ان دونوں سے جہاد کرنے کا مکلف قرار دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا دشمن بھی سامنے کھڑا ہے۔ اس سے جہاد کیے بغیر ان دونوں کا مقابلہ کرنا بھی محال ہے، اور وہ تیسرا بندے کو ان دونوں کا مقابلہ کرنے سے باز رکھنے اور اسے کمزور کرنے کی کوشش میں لگارہتا ہے اور وہ دشمن شیطان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿ إِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا ج﴾ [فاطر:۶] ’’ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس لیے تم اسے دشمن سمجھو۔‘‘ چنانچہ اسے دشمن سمجھنے کا حکم اس بات کا اشارہ ہے کہ اس سے جنگ کرنے اور مقابلہ کرنے کے لیے پوری وسعت اور ہمت سے کام لینا چاہیے۔ اس طرح یہ تین دشمن ہیں ، جن سے بندے کو جنگ کرنے اور جہاد کرنے کا حکم دیا گیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی ایک آزمائش ہے۔ اور بندے کو ان کے مقابلے کی قوت اور مدد بھی دی گئی ہے اور فریقین میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعہ آزمایا گیا ہے۔ اور بعض بعض کے لیے فتنہ ہیں ، تاکہ ان کے حالات و معاملات کا امتحان ہوسکے، چنانچہ بندوں کو اللہ تعالیٰ نے آنکھ، کان، عقل اور قوت سے نوازا ہے اور ان کے لیے کتابیں نازل فرمائی ہیں اور انبیاء کرام کی بعثت کی اور اپنے فرشتوں سے نصرت فرمائی۔ دشمنوں سے جنگ کے دوران جو چیز مددگار ثابت ہوسکتی ہے ، اس سے مطلع فرمایا، اور ان کو بتایا کہ اگر اس کی اطاعت کرتے رہیں گے ، تو اپنے دشمنوں پر فتح یاب ہوتے رہیں گے۔ اگر اس کی اطاعت سے روگردانی کریں گے، تو دشمنوں کو اللہ تعالیٰ ان پر مسلط کردیں گے۔ اور ایسی صورت میں بھی مایوسی کی چنداں ضرورت نہیں ، بلکہ صبر و استقامت سے ان زخموں کا بھی مداوا کیا جاسکتا ہے، اور دشمن پر غالب ہوا جاسکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ نیکو کاروں اور پرہیزگاروں اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور وہ ذات پاک مومنین کی اس وقت مدافعت اور نصرت کرتی ہے ، [1] أخرجہ احمد:۶؍۲۱ وسندہ جید وصححہ ابن حبان والحاکم ووافقہ الذہبی