کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 674
ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ لَا یُکَلِّفُ ا للّٰه نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا ﴾[البقرۃ:۲۸۶][ ’’ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘ ] تو جہاد کشمیر میں ہو ، خواہ فلسطین میں ۔ بوسنیا میں ہو، خواہ فلپائن میں ۔ اریٹیریا میں ہو، خواہ چیچنیا میں ۔ پاکستان میں ہو، خواہ افغانستان میں ۔ الغرض جہاد کہیں بھی ہو اہل اسلام پر فرض عین ہے۔ رہا ذمہ داری کا تعین تو وہ ہر مسلم نے ازخود کرنا ہے ، کیونکہ خلیفۃ المسلمین فی زمانہ موجود نہیں ، لہٰذا ہر مسلم جہاد کے سلسلہ میں اپنی اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے، نیک نیتی سے اسے متعین بھی کرے اور اسے ادا بھی کرے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو پورے اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ۱۳ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۲ھ [اس خط میں جہاد کی تیرہ قسموں کا ذکر ہے اور زاد المعاد کا حوالہ ہے، لہٰذا ’’زاد المعاد ؍ الجزء الثالث ؍ فصل فی ہدیہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم فی الجہاد والمغازی والسرایا والبعوث ‘‘سے تفصیل درج ذیل ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد و غزوات میں اسوۂ حسنہ جہاد چونکہ اسلام کا ایک اعلیٰ و عظیم الشان مسئلہ ہے اور مجاہدین جنت میں بلند تر مقامات پر فائز ہوں گے اور دنیا میں بھی ان کی سربلندی ہوتی ہے ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ میں ایک اعلیٰ مقام پر فائز تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی ہر قسم میں بنفس نفیس حصہ لیا اور اللہ کی راہ میں دل و جان، دعوت و بیان، سیف و سنان، غرض ہر چیز کے ذریعہ سے جہاد فرمایا اور آپ کے تمام اوقات جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف تھے، اس لیے آپ کی شخصیت اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ قابل قدر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرتے ہی جہاد کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا: ﴿ فَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجٰھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا ط﴾ [الفرقان:۵۲] ’’ آپ کافروں کی اطاعت نہ کیجئے اور ان سے خوب جہاد کیجئے۔‘‘ یہ سورہ مکی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ساتھ جہاد بالبیان کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح منافقین کے ساتھ جہاد کا حکم دیا کہ انہیں دلیل دی جائے یعنی جہاد بالحجہ کیا جائے، جو کفار سے جہاد کے مقابلہ میں زیادہ سخت ہے۔ یہ جہاد امت کے خواص اور وارثان رسول کا حصہ ہے۔ دنیا میں تھوڑے سے لوگ اس کو انجام دیتے ہیں اور اس راہ میں انہی کی مدد ہوتی ہے۔ ایسے لوگ تعداد میں تھوڑے ہوتے ہیں ، لیکن اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے۔