کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 673
وُسْعَھَا﴾[البقرۃ ۲؍۲۸۶][ ’’ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘ ] جہادِ کشمیر بھی جہاد میں شامل ہے، حافظ سعید صاحب امیر، حافظ عبدالسلام صاحب بھٹوی، پروفیسر ظفر اقبال صاحب، امیر حمزہ صاحب، حافظ عبدالغفار صاحب اعوان، حافظ عبدالرحمن صاحب مکی اور ان کے کئی ایک ساتھی۔ حفظہم اللہ تبارک وتعالیٰ۔ اپنے اپنے گھروں میں رہ کر مقبوضہ کشمیر میں جائے بغیرہی جہاد والا فرض عین ادا کرسکتے ہیں تو کوئی دوسرا اس طرح جہادی فرض عین کیوں ادا نہیں کرسکتا؟ 2۔بس یہ جہادی گروہ ہیں ، جو بروتقویٰ کے کام کریں ان میں ان کا تعاون فرض ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ﴾[المآئدۃ: ۵؍۲][ ’’ نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو۔‘‘ ] 3۔ان جہادی گروہوں میں سے کسی ایک میں شامل ہونے کی فرضیت کتاب و سنت سے ثابت نہیں ، اور نہ ہی کوئی جہادی گروہ اپنے اندر لوگوں کی شمولیت کو فرض گردانتا ہے، لہٰذا کسی سبب سے علیحدگی انسان کو گنہگار نہیں بناتی۔ 4۔ عالم موصوف کا موقف درست ہے۔ 5۔دوسرے عالم کا موقف (( فَاعْتَزِلْ تِلْکَ الْفِرَقَ کُلَّھَا)) [1] [ ’’ ان تمام گروہوں سے الگ رہو۔‘‘ ] درست ہے، البتہ اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (( فاعتزل تلک الفرق کلھا)) فرمایاہے۔ (( فَاعتَزِلْ مِلَّۃَ الْإِسْلاَمِ وَأَحْکَامَھَا)) [’’ دین اسلام اور اس کے احکام سے الگ رہو۔‘‘ ] نہیں فرمایا۔ اس لیے کسی تنظیم میں رسمی شمولیت کے بغیر بروتقویٰ کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹانا اور ان سے تعاون کرنا ضروری ہے۔ کما تقدم فی الرقم الثانی ۲۵ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۱ھ س: جہادِ کشمیر کے متعلق علماء کی مختلف آراء ہیں ، حتی کہ ہمارے اہلحدیث علماء کے درمیان بھی اس مسئلہ پر اختلاف چلا آرہا ہے کہ جہادِ کشمیر فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟ کون سی جماعت قتل کرے گی اور کون سی دعوت و اصلاح کا فریضہ سرانجام دے گی؟ (محمد نوید شہزاد، جدّہ) ج: جہاد ہمیشہ ہی فرض عین ہے اور قیامت تک فرض عین ہی رہے گا، البتہ اس کے کئی شعبے ہیں ، جنہیں حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی مایۂ ناز کتاب ’’زاد المعاد ‘‘ میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے تو جہاد کے تیرہ (۱۳)شعبہ جات میں سے کسی پر کوئی شعبہ فرض ہے تو کسی پر کوئی شعبہ۔ پھر بقدر طاقت و استطاعت کی شرط ادھر بھی ملحوظ [1] بخاری ؍ الفتن ؍ کیف الامر اذا لم تکن جماعۃ