کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 670
کتاب الجہاد والامارۃ…جہاداور امارت کے مسائل س: 21 دن کی جہادی تربیت (دورۂ عامہ) نہ کرنے والا پکا منافق و کافر ہے، ایسا نظریہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیسا ہے؟ اور اس نظریہ کا حامل کس سلوک کا مستحق ہے؟ (محمد صدیق، ایبٹ آباد) ج: اس کا تو مجھے علم نہیں ، البتہ صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہٗ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِنْ نِفَاقٍ)) [1] [’’ جو آدمی فوت ہوا نہ اس نے جہاد کیا اور نہ جہاد کا ارادہ کیا وہ نفاق کے شعبہ پر مرا۔ ‘‘ ] اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: [’’ اور تم ان (کفار) کے لیے ہر ممکن قوت تیار رکھو۔‘‘] [الانفال:۶۰] نیز ارشاد ہے: ’’ اور ہم نے اس ( داؤد علیہ السلام) کو تمہارے لیے خاص قسم کے لباس (یعنی زرہیں ) کی صنعت سکھائی، تاکہ جنگ میں تمہاری حفاظت کرے ، پس کیا تم شکر ادا کرنے والے ہو۔‘‘ [الانبیاء:۸۰] ’’ اور ہم نے اس (داؤد علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم کردیا اور حکم دیا کہ پوری پوری زرہیں تیار کرو اور کڑیاں جوڑنے میں اندازہ رکھو اور عمل صالح کرتے رہو۔ یقینا میں تمہارے سب اعمال دیکھ رہا ہوں ۔‘‘ [السبأ:۱۰ ،۱۱] ’’ ہم تو اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیج چکے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ کتب اور میزان عدل بھی اتارے تاکہ لوگ انصاف قائم رکھیں اور ہم نے لوہا اتارا، جس میں لڑائی کا مضبوط سامان اور لوگوں کے لیے دیگر منافع ہیں ، تاکہ اللہ ظاہر کردے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے کون مدد کرتاہے، یقینا اللہ بڑا قوت والا اور غالب ہے۔‘‘ [الحدید:۲۵] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہود بنی نضیر سے حاصل ہونے والے مال فئی جو آپ کا مخصوص حق تھا، سے ایک سال کا خرچ برائے اہل و عیال بچا کر بقایا، تمام مال جہادی ساز و سامان گھوڑوں اور اسلحہ کے لیے وقف کردیتے تھے۔ [2] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’ اے بنی اسماعیل! تیر اندازی کیا کرو، تمہارے باپ جناب اسماعیل صلی اللہ علیہ وسلم بھی تیر انداز تھے۔ ‘‘[3] [1] مسلم ؍ کتاب الجہاد ؍ باب ذم من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو [2] صحیح البخاری ؍ کتاب الجہاد ؍ باب المجن ومن یتترس بترس صاحبہ، صحیح مسلم ؍ کتاب الجہاد والتسیر ؍ باب حکم الفیء [3] صحیح البخاری ؍ کتاب الجہاد ؍ باب التحریض علی الرمی