کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 669
س: بعض لوگوں سے سُنا ہے کہ سگریٹس کا کاروبار نشے کے زمرے میں آتا ہے اس لیے اس کی خریدو فروخت حرام ہے۔ آپ سگریٹ کے کاروبار کے متعلق بھی بتائیں ۔ (محمد ارشد) ج: حقہ ، سگریٹ ، تمباکو اور نسوار نشہ آور اشیاء میں شامل ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ)) 1 [’’جو نشہ کرے وہ حرام ہے۔‘‘]ہر نشہ آور حرام ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ)) [1] [’’ہر نشہ لانے والا خمر ہے۔‘‘]ہر نشہ آور خمر و شراب ہے ۔ صحیح بخاری میں ہے : ((ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَۃَ فِی الْخَمْرِ)) پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمر و شراب میں تجارت خریدو فروخت کو حرام قرار دیا ۔ [2] س: سگریٹ اور تمباکو کے استعمال اور خرید و فروخت کے بارے تفصیل سے وضاحت کریں ۔ (محمد ارشد) ج: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:......((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ)) [3] [’’ہر نشہ لانے والا حرام ہے۔‘‘]اورصحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ)) [4] [’’ہر نشہ لانے والا خمر ہے۔‘‘]اور صحیح بخاری صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمر میں خریدو فروخت تجارت کو حرام قرار دیا ہے۔ [5]واللہ اعلم س: اگر گھر والے سود کی کمائی کھاتے ہوں تو گھر کا کھانا ایک دو دن صحیح ہے۔ (شاہد سلیم لاہور) ج: قرآن مجید میں ہے: ﴿وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ [البقرۃ:۲۷۵] [’’اور اس نے سود کو حرام قرار دیا۔‘‘] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((دِرْھَمُ رِبًا یَأْکُلُہُ الرَّجُلَ وَھُوَ یَعْلَمُ أَشَدَّ عِنْدَ ا للّٰه مِنْ سِتَّۃٍ وَّ ثَلَاثِیْنَ زِیْنَۃً)) [6] [’’سود کا ایک درہم جس کو کوئی آدمی کھاتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے چھتیس(۳۶)مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔‘‘]اب آپ خود غور فرما لیں ایک دو دن کیا؟ ایک دفعہ کیا؟ ایک لقمہ بلکہ آدھا لقمہ کھانا بھی کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ واللہ اعلم ۲۴؍۶؍۱۴۲۳ھ [1] صحیح مسلم؍کتاب الاشربۃ؍باب بیان ان کل مسکر خمر وان کل خمر حرام۔ [2] صحیح مسلم؍کتاب الاشربۃ؍باب بیان ان کل مسکر خمر وان کل خمر حرام۔ [3] صحیح بخاری؍کتاب البیوع؍باب تحریم التجارۃ فی الخمر۔ [4] بخاری؍کتاب المغازی؍باب بعث ابی موسی و معاذ الی الیمن قبل حجۃ الوداع۔ مسلم؍کتاب الاشربۃ؍باب بیان ان کل مسکر خمر و ان کل خمر حرام۔ [5] بخاری؍کتاب البیوع؍باب تحریم التجارۃ فی الخمر۔ [6] مسلم؍کتاب الاشربۃ؍باب بیان ان کل مسکر خمر و ان کل خمر حرام۔ 7۔ مشکوٰۃ؍کتاب البیوع؍باب الربا؍الفصل الثالث۔