کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 668
کے کپورے خصیتین کھائے جا سکتے ہیں جبکہ فقہ حنفی کے مطابق مکروہ تحریمی کہتے ہیں ؟ حقیقت بیان کریں ۔ (محمد عثمان ، چک چٹھہ) ج: حلال جانوروں کے حلال ہونے کے دلائل ان کے تمام اعضاء کے حلال ہونے کے دلائل ہیں مگر ان کی وہ چیزیں جن کے حرام ہونے کی کوئی دلیل آیت یا حدیث میں آجائے لہٰذا جو مکروہ تحریمی کہتے ہیں ان سے دلیل آیت یا سنت و حدیث طلب فرمائیں ، پھر مجھے بھی آگاہ کریں اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ۱۰؍۱؍۱۴۲۴ھ س: کیا سگریٹ نوشی حرام ہے ؟ آپ کے جامعہ کے ایک اُستاد ہمارے علاقے میں آئے اور اُن سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ حرام نہیں ہے کیونکہ اس کے حرام ہونے کی کوئی آیت یا حدیث نہیں ہے ۔ جب اُن سے کہا گیا کہ ہر نشہ پیدا کرنے والی چیز حرام ہے تو انہوں نے کہا کہ اس میں نشہ نہیں ہے کیونکہ نشہ کی تعریف یہ ہے کہ عقل ماؤف ہو جائے تو اس سے عقل قائم رہتی ہے ۔ کیایہ تعریف درست ہے؟ اگر درست ہے تو پھر بہت سی نشے والی چیزیں ایسی ہیں جو کم مقدار میں استعمال کریں تو نشہ پیدا نہیں ہوتا۔ مثلاً شراب ، چرس وغیرہ۔ پھر اُن سے ہم نے کہا کہ ایک حدیث ہے کہ ’’جسم کو نقصان پہنچانے والی چیز حرام ہے۔‘‘ اور یہ تو سرطان ، ٹی بی ا اور کئی دوسری بیماریاں پیدا کرتا ہے جو جان لیوا ہیں ۔ تو انہوں نے کہا کہ اس طرح تو چائے اور چینی بھی نقصان دہ ہیں ۔ آپ بتائیں کہ صحیح کیا ہے؟ (محمد افراہیم ، آزاد کشمیر) ج: حقہ ، سگریٹ ، تمباکو ، نسوار اور دیگر نشہ آور چیزیں سب حرام ہیں ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ)) باقی جس نے یہ چیزیں کبھی استعمال نہ کی ہوں اس کی عقل تو ضرور ان چیزوں سے ماؤف ہو جاتی ہے اور جو نشہ کے عادی ہوں ان کی عقل تو خمر و شراب سے بھی ماؤف نہیں ہوتی ۔۔ تو پھر کیا خمر و شراب حلال قرار پائے گی؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ واللہ اعلم ۱۳؍۱۰؍۱۴۲۱ھ س: سگریٹ نوشی اور نسوار سے کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟ (محمد خالد ، نگری بالا ، ایبٹ آباد) ج: سگریٹ نوشی ، تمباکو نوشی ، حقہ نوشی اور نسوار مسکر ہونے کی بناء پر حرام ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ)) [1] [’’جو چیز نشہ کرے وہ حرام ہے۔‘‘]باقی ان سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں اس کا مجھے علم نہیں ۔ ۳؍۱؍۱۴۲۱ھ [1] صحیح مسلم؍کتاب الاشربۃ؍باب بیان ان کل مسکر خمر وان کل خمر حرام۔