کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 667
ذلک علی اختلاف حکمھما))(نیل الأوطار:۸؍۱۱۱) حرمت خیل والی روایات کی تضعیف نیل الأوطار میں خود ملاحظہ فرما لیں ۔ س: برائلر مرغیوں کو خون سے بنی ہوئی خوراک کھلائی جاتی ہے کیا حرمت خون کی وجہ سے ان کا گوشت نہ کھایا جائے ؟ جبکہ ذبح کرتے وقت بھی ایک دفعہ تکبیر پڑھ کر ساری مرغیوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ اگر شہ رگ بھی صحیح نہیں کاٹی جاتی ایسا گوشت کھانا کیسا ہے؟ (ماسٹر عبدالرؤف) ج: فارمی یا غیر فارمی مرغی جلالہ بن جائے تو حرام ہے ۔ خون حرام ہے انسانوں اور جنوں پر نہ کہ مرغیوں اور حیوانوں پر ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ﴾ علیکم پر غور فرمائیں کم میں کون کون سی چیزیں آتی ہیں ۔ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ( بسم ا للّٰه واللّٰہ اکبر) نہیں لیا گیا تو بھی جانور حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ ا للّٰه عَلَیْہِ﴾ اگر گردن کی دونوں جانب اوداج رگیں نہیں کاٹی جاتیں تو بھی حرام ہے۔ واللہ اعلم ۹؍۱۲؍۱۴۲۳ھ س: آپ نے فرمایا: فارمی مرغی جلالہ بن جائے تو حرام ہے ۔ ہمارا ایک سیل مرغ چوہے بہت شوق سے کھاتا تھا زیادہ سے زیادہ انہی کی تلاش میں پلا۔ دانہ بھی کھاتا تھا ہم نے اس کو بیچ دیا تھا کیا یہ جلالہ کی صورت ہے؟ (عبدالرؤف) ج: اگر وہ دانہ برائے نام کھاتا تھا زیادہ تر جلہ اور چوہے کھاتا تھا تو بلاشبہ وہ جلالہ تھا۔ [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ کے گوشت اور دودھ سے منع فرمایا ( جلالہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کی خوراک میں گندگی اور نجاست کثرت سے ہو)‘‘] [1] س: ایک مرغی کو ایک بلّے نے گردن سے پکڑا اور گردن اُتر گئی ، اب مرغی حلال ہے یا حرام ؟ اگر حلال ہے توذبح کس عضو سے کریں گے ؟ گردن تو پہلے اُتر چکی ہے؟ (قاری محمد عبداللہ ظہیر ، لاہور) ج: اگر مرغی مرچکی ہے تو وہ حرام ہے اور اگر زندہ ہے تو جہاں سے ایسی صورت میں ممکن ہو ذبح کر لے تو حلال ہے۔ ۱۷؍۱۰؍۱۴۲۱ھ س: حلال جانور جن کی قربانی دی جاتی ہے حلال جانور کوئی بھی ہو ماکول اللحم جانور جتنے بھی ہیں کیا ان [1] ابو داؤد؍کتاب الاطمعۃ؍باب النھی عن أکل الجلالۃ۔ ابن ماجہ ؍کتاب الذبائح ؍باب النھی عن لحوم الجلالۃ۔ ترمذی؍کتاب الاطعمۃ؍باب ما جاء فی أکل لحوم الجلالۃ والبانھا۔