کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 659
مُرْتَھَنُّ بِعَقِیْقَتِہٖ)) [یُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ السَّابِعِ وَیُسَمّٰی وَیُحْلَقُ رَاْسُہٗ] [1] [’’بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے۔‘‘] والی حدیث کو ملحوظ رکھا جائے تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ ساتویں دن کے بعد عقیقہ کے لیے شریعت میں کوئی دن مقرر نہیں جس دن چاہے عقیقہ کر لے۔ س: مولانا عقیقہ ساتویں دن دینا سُنت ہے اور جس مسلمان کو طاقت نہیں ، کیا جب اس کو طاقت ہو اُس وقت دے سکتا ہے اور وہ عقیقہ ہو جائے گا۔ نمبر ۲۔ اور کیا بندہ عقیقہ گائے دے سکتا ہے اور عقیقہ گائے کا ہو جائے گا کہ نہیں اور.....نمبر ۳۔عقیقہ فرض ہے کہ سنت ہے مولانا تفصیل سے جواب دیں ۔ (قاری محمد یعقوب گجر) ج: (الف)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((اَلْغُلَامُ مُرْتَھَنٌ بِعَقِیْقَتِہٖ یُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ السَّابِعِ وَیُسَمّٰی وَیُحْلَقُ)) [2] [’’بچہ اپنے عقیقہ کی وجہ سے گروی رہتا ہے اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے اور اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال مونڈے جائیں ۔‘‘ ] اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے ساتویں دن کے بعد بھی عقیقہ ہی ہو گا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مرتہن‘‘ گروی رکھا ہوا کے لفظ استعمال فرمائے تو جو حال وقت مقرر پر قرض نہ ادا کرنے کی صورت میں بعد میں قرض ادا کر کے گروی رکھی ہوئی چیز واپس لینے کا ہے وہی حال ساتویں دن کے بعد عقیقہ کرنے کا ہے۔ تو عقیقہ ساتویں دن کرنا فرض ہے ، ساتویں دن طاقت نہ ہونے کی صورت میں بعد ازاں بوقتِ طاقت عقیقہ کر لے تو عقیقہ ہی ہو گا۔ ب۔ گائے اور اونٹ کا عقیقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں جو روایت اس سلسلہ میں پیش کی جاتی ہے وہ کمزور ہے۔ رہا عقیقہ کو قربانی پر قیاس کرناتو یہ قیاس نص کے مقابلہ میں ہے اور معلوم ہے کہ نص کے ہوتے ہوئے نص کے مقابلہ میں قیاس درست نہیں ہوتا نص مندرجہ ذیل ہے: ((عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْجَارِیَۃِ شَاۃٌ)) [3] (رواہ النسائی) [’’لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریاں اور لڑکی کے عقیقہ میں ایک۔‘‘] ج۔ عقیقہ فرض ہے ایک دلیل تو پہلے گزر چکی ہے: ((اَلْغُلَامُ مُرْتَھَنٌ بِعَقِیْقَتِہٖ)) دوسری دلیل صحیح بخاری [1] جامع ترمذی؍ابواب الاضاحی؍باب من العقیقۃ ح:۱۵۲۲۔ [2] ابو داؤد؍کتاب الضحایا؍باب فی العقیقۃ۔ نسائی؍کتاب العقیقۃ؍باب متی یعق۔ ابن ماجہ؍کتاب الذبائح؍باب العقیقۃ۔ ترمذی؍ابوب الاضاحی۔ باب۲۰۔ [3] ابو داؤد؍کتاب الضحایا؍باب العقیقۃ۔ نسائی؍کتاب العقیقۃ۔ کم یعق عن الجاریۃ۔ ابن ماجہ؍کتاب الذبائح؍باب العقیقۃ۔ ترمذی؍ابواب الاضاحی؍باب فی العقیقۃ۔