کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 658
س: 1۔عقیقہ کتنے دنوں کے بعد ہوتا ہے؟ 2۔ایک شخص نے اپنے بیٹے یا بیٹی کا عقیقہ کافی مہینوں کے بعد کیا کسی مجبوری کی بناء پر اس نے دعوت پر بلایا، کیا ایسی دعوت پر جاکر اس عقیقہ کے گوشت کا کھانا جائز ہے؟ اور کیا وہ عقیقہ صدقہ کہلائے گا اور اگر صدقہ ہے تو کیا یہ وہ صدقہ ہے جو ہم اپنے اہل پرکرتے ہیں ؟ (محمد صارم بن سیف اللہ ، وحدت کالونی ، گوجرانوالہ) ج: عقیقہ ساتویں دن ہے۔ سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلْغُلاَمُ مُرْتَھَنٌ بِعَقِیقَتِہٖ تُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ السَّابِعِ ، وَیُسَمّٰی ، وَیُحْلَقُ رَأسُہٗ۔ رواہ أحمد والترمذی وغیرھما)) [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکا اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے۔ اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے۔ روایت کیا اس کو احمد، ترمذی، ابو داؤد اور نسائی نے۔[1] لیکن ان دونوں کی روایت میں مُرْتَھَنٌ کی بجائے رَھِیْنَۃٌ کا لفظ ہے۔ احمد اور ابو داؤد کی روایت میں یُسَمّٰی کی جگہ یُدْمٰیکا لفظ ہے۔ ابو داؤد نے کہا: یُسَمّٰی زیادہ صحیح ہے۔ ‘‘] بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (( کُنَّا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلاَمٌ ذَبَحَ شَاۃً ، وَلَطَخَ رَأْسَہٗ بِدَمِھَا ، فَلَمَّا جَائَ الْإِ سْلاَمُ کُنَّا نَذْبَحُ الشَّاۃَ یَوْمَ السَّابِعِ ، وَنَحْلِقُ رَأْسَہٗ ، وَنَلْطَخُہٗ بِزَعْفَرَانٍ۔))[2] (رواہ أبو داؤد)[’’ بریدہؓ سے روایت ہے آپ نے کہا: جاہلیت کے زمانہ میں اگر کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوتا بکری ذبح کرتا اور اس کے سر پر خون لگاتا جب اسلام آیا ہم ساتویں دن بکری ذبح کرتے ہیں اور بچے کا سر مونڈتے ہیں اور اس کے سر پر زعفران لگاتے ہیں ۔ روایت کیا اس کو ابو داؤد نے۔‘‘] 2۔درست ہے دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اَلْغُلاَمُ مُرْتَھَنٌ بِعَقِیقَتِہٖ)) گروی چیز میں تاریخ بسااوقات مقرر ہوتی ہے وہ مقررہ تاریخ گزر جائے تو پیسے دیے جاتے اور گروی چیز واپس لی جاتی ہے ، اسی طرح بچہ بھی گروی ہے عقیقہ سے۔ ساتویں دن گروی ہونا ختم کیا جاتا ہے اگر کسی وجہ سے ساتویں دن اس کا گروی ہونا ختم نہیں کیا جاسکا تو بعد میں اس کا گروی ہونا ختم کروالے۔ بعد والے عقیقہ کا حکم ساتویں دن عقیقہ والا ہی ہے ، صرف اداء اور قضاء کا فرق ہے۔ صدقہ وغیر صدقہ والا فرق نہیں ۔ ۲۵ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۴ھ س: کیا عقیقہ چودھویں دن یا اکیس ویں دن کر سکتے ہیں ؟ (محمد حسین بن عبدالصمد) ج: ساتویں دن عقیقہ والی حدیث صحیح ہے ، چودھویں اور اکیسویں دن عقیقہ والی روایت کمزور ہے۔ ((اَلْغُلَامُ [1] ترمذی؍کتاب الاضاحی؍از ابواب باب الاذان فی اذن المولود۔ ابو داؤد؍کتاب الضحایا ؍ باب فی العقیقۃ۔ نسائی؍کتاب العقیقۃ؍باب متی یعق ۔ ابن ماجہ؍کتاب الاضاحی؍باب الاضاحی واجبۃ ھی۔ [2] ابو داؤد؍کتاب الضحایا ؍باب فی العقیقۃ۔