کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 656
فضعیف ، فإِذا ضحی الرجل عن المیت منفردا فالا حتیاط أن یتصدق بھا کلھا)) ۱ھ ۳؍۱۲؍۱۴۲۲ھ س: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور خصی کرنے سے منع کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونبے خصی ذبح کیے ہیں ۔ پسندیدہ کام خصی جانور ذبح کرنا ہے۔ اگر جانور کو خصی نہ کریں گے تو گوشت خراب ہو گا۔ اور بدبودار ہوگا۔ (ابو حماد) ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی اور غیر خصی دونوں کی قربانی ثابت ہے [1]خصی کرنے کروانے کی ممانعت سے اس کو ( خصی کو) قربانی میں یا دیگر اُمور میں کام میں لانے کی ممانعت نہیں نکلتی ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خصی کی قربانی نہ دیتے۔ رہا خصی یا غیر خصی کا قربانی میں أفضل ہونا تو اس کا مجھے علم نہیں ۔ واللہ اعلم ۲؍۱۱؍۱۴۲۰ھ س: ’’احکام و مسائل‘‘ میں آپ نے فرمایا ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے صدقہ والا حصہ غیر مسلموں کو نہیں دیا جائے گا تو کیا قربانی کے گوشت کے حصے کیے جائیں گے اور اگر کیے جائیں گے تو کتنے ہوں گے اور ان کی تقسیم کیسے ہو گی اور کون سا حصہ صدقہ والا شمار ہو گا اور کیا صدقہ والا حصہ نکال کر باقی قربانی سے غیر مسلموں کو دیا جا سکتا ہے؟ (محمد ہاشم یزمانی) ج: قرآن مجید میں ہے: ﴿فَکُلُوْا مِنْھَا وَأَطْعِمُوا البَآئِسَ الْفَقِیْرَ﴾[الحج:۲۸] [’’ تم خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔‘‘]نیز قرآن مجید میں ہے: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُھَا فَکُلُوْا مِنْھَا وَأَطْعِمُوا القَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾[الحج:۳۶] [’’پھر جب ان کے پہلو زمین پر لگ جائیں اسے ( خود بھی) کھاؤ اور مسکین سوال سے رُکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔‘‘]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((فَکُلُوْا مَا بَدَالَکُمْ وَاَطْعِمُوْا وَادَّخِرُوْا)) [2] [’’پس کھاؤ جیسے مناسب سمجھو اور کھلاؤ اور ذخیرہ کرو۔‘‘]تو قربانی کے گوشت سے کچھ صدقہ کرنا فرض و ضروری ہے ، باقی نصف ، ثلث اور ربع وغیرہ کی تعیین وتحدید کہیں وارد نہیں ہوئی۔ ۲۹؍۷؍۱۴۲۳ھ س: اگر کوئی بینک ملازم ہے اس کی قربانی کے گوشت کو کھانا چاہیے یا کہ سودی کمائی کے پیش نظر نہ کھائیں ۔ (عبدالرؤف ، گجرات) ج: قرآن مجید میں ہے: ﴿لَا تَاْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾[البقرء:۱۸۸] [’’اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو۔‘‘]دوسری آیت میں ہے: ﴿کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلَالًا [1] ابو داؤد؍کتاب الضحایا باب ما یستحب من الضحایا ۔مشکوٰۃ؍کتاب الصلاۃ؍باب فی الأضحیۃ؍ الفصل الثانی۔ [2] مسلم؍کتاب الأُضاحی؍باب بیان ما کان من النھی عن اکل لحوم الاضاحی۔ ترمذی؍ابواب الاضاحی؍باب فی الرخصۃ فی أکلھا بعد ثلاث۔