کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 65
’’ اَشْھَدُ أَنْ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ ا للّٰه ‘‘ پہلے قاعدے سے ہمیں معلوم ہوا کہ جس چیز کا اپنا وجود نہ ہو وہ کسی دوسری چیز کو پیدا نہیں کر سکتی.....دوسرے قاعدے سے ہمیں خالق کائنات کی صفات کا علم ہوا.....تیسرے قاعدے سے ہمیں معلوم ہو گا کہ مذکورہ بالا ساری صفات صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی ہو سکتی ہیں ۔ تیسرا قاعدہ:خود محروم، دوسرے کو کچھ نہیں دے سکتا۔ جس آدمی کے پاس مال نہ ہو ، یعنی کنگال ہو، لوگ اس سے مال مانگنے نہیں جاتے اور جاہل سے علم حاصل نہیں ہوتا، اس لیے کہ جو آدمی خود ہی محروم ہے وہ دوسرے کو کیا دے گا۔ مخلوق میں موجود علامتوں اور نشانیوں پر غور کرنے سے ہمیں خالق سبحانہ و تعالیٰ کی صفات کا علم ہوا۔ جب ہمیں صفات کا علم ہو گیا تو صاحب صفات ہستی ( موصوف) کی ذات معلوم ہو گئی۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ فطرت نے انہیں پیدا کیا، انہوں نے عقل سلیم کے خلاف بات کہی اور حقیقت سے جنگ کی۔ اس لیے کہ ساری کائنات بزبان حال گواہی دے رہی ہے کہ اس کو بنانے والی ذات حکیم ، علیم، خبیر،ہادی ،رازق، حافظ، رحیم ،واحد اور احد ہے۔ گونگی بہری بے جان فطرت ،نہ اس کے پاس علم ہے نہ حکمت ، نہ زندگی ، نہ رحمت اور نہ ہی اس کا اپنا کوئی منصوبہ یا پروگرام ہے۔ معلوم نہیں نادان لوگوں کو یہ وہم و گمان کہاں سے لاحق ہو گیا ؟ حالانکہ اصول یہ ہے کہ خود محروم دوسرے کو کچھ نہیں دے سکتا۔ فطرت کی حقیقت کیا ہے؟: مخلوق میں جو صفات ( خوبیاں یا کوتاہیاں ) پائی جاتی ہیں ، وہ اس کی فطرت ہے۔ پرانے بت پرستوں نے اسی فطرت کے بعض اجزاء کو علیحدہ علیحدہ رکھ کر پوجا ہے۔ کسی نے سورج کو ، کسی نے چاند کو، کسی نے ستاروں کو ، کسی نے آگ کو ، کسی نے پتھروں کو اور کسی نے انسان کو بت بنا ڈالا اور پوجا۔ اور آج کے فطرت پرست پڑھے لکھے جاہلوں کا خیال ہے کہ تاریک زمانے میں پوجے گئے بتوں کے مجموعے یعنی فطرت نے ہی انہیں پیدا کیاہے، حالانکہ صورت حال یوں ہے کہ فطرت کے پاس عقل نہیں ہے اور یہ لوگ عقل کے مالک ہیں فطرت کے پاس علم نہیں ہے اور ان لوگوں کے پاس علم بھی ہے، اور فطرت کا اپنا کوئی ارادہ اور پروگرام نہیں ہوتا اور یہ لوگ اپنے ارادے کے مالک ہیں ۔ آخر ان لوگوں کو احساس کیوں نہیں ہوتا کہ جو خود محروم ہو، وہ دوسرے کو کیا دے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان