کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 646
(پوتے) کی موجودگی میں بھائی وارث نہیں بنتا کیونکہ بھائی بہن میت کے کلالہ ہونے کی صورت میں وارث ہوتے ہیں اور بیٹے یا پوتے کی موجودگی میں میت کلالہ نہیں تو پھر پوتے یا بیٹے کی موجودگی میں بھتیجا کیونکر وارث بن سکتا ہے؟ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَأُولُوا الأَرْحَامِ بَعْضُھُمْ أَوْلیٰ بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ﴾ [الانفال: ۷۵] [ ’’اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں ۔‘‘ ] اور ظاہر ہے کہ پوتا بھتیجے سے اولیٰ و اقرب ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں متوفی علی محمد کے قرض و وصایا۔ اگر ہوں .....ادا کرنے کے بعد ترکہ چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر پوتی کو ایک ایک حصہ اور ہر پوتے کو دو دو حصے ملیں گے ۔﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ اور بھتیجامحجوب حجب حرمان ہو گا۔ واللہ اعلم ۔ یاد رہے کہ اگر سوال صحیح نہ ہو واقع اور نفس الأمر کے مطابق نہ ہو تو مندرجہ بالا جواب کو جواب نہ سمجھا جائے۔ ۶؍۷؍۱۴۲۱ھ س: ہمارا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا ہے جس کی بیوہ موجود ہے اور اس متوفی کی پہلی مطلقہ بیوی سے متوفی کی دو بیٹیاں بھی موجود ہیں اور متوفی کا ایک حقیقی بڑا بھائی بھی موجود ہے ۔ چنانچہ متوفی کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد (ترکہ)کی تقسیم کس طرح ہو گی؟ قرآن و حدیث کی رُو سے وضاحت درکار ہے۔ متوفی نے اپنی موجودہ بیوہ کا حقیقی بھتیجا لے پالک بنایا ہوا تھا وہ متبنیٰ بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ پہلی بیوی کو طلاق ملے ہوئے تقریباً دس برس گزر چکے ہیں اور میاں نے پہلی بیوی سے رجوع نہیں کیا ہے۔ (عظمت علی ولد محمد اسماعیل) ج: آپ کی مسؤلہ صورت میں متوفی کی پہلی بیوی چونکہ عرصہ تقریباً دس سال سے مطلقہ ہے اس دوران متوفی نے اس کو دوبارہ اپنی زوجیت میں نہیں لیا اس بناء پر وہ متوفی کی بیوی نہیں رہی لہٰذا وہ تو متوفی کی وارث ہی نہیں رہی۔ متوفی کی دوسری بیوی وہ چونکہ متوفی کی وفات کے وقت متوفی کے نکاح میں ہے اس لیے وہ متوفی کی وارث ہے چونکہ متوفی کی اولاد دو بیٹیاں موجود ہیں اس لیے اس بیوی کو متوفی کا وصایا و دیون ادا کرنے کے بعد جو جائیداد منقولہ و غیر منقولہ بچے اس کا (ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَـإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ أَوْدَیْنٍ﴾ [النساء:۱۲][’’ اور اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔‘‘] متوفی کی دو بیٹیوں کو دو تہائی ملے گا وہ بھی وصایا و دیون کے بعد۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: