کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 643
اصل مسئلہ = ۸ تصحیح ۸×۱۱ = ۸۸ترکہ = ۲۶ کنال ایک بیوی چار بیٹے تین بیٹیاں حصص= ۸؍۱ (لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ُ) از تصحیح =۱۱ ۵۶ ہر بیٹے کو ۱۴ ۲۱ ہر بیٹی کو ۷ از ترکہ = ۳( کنال 16-6/11 ہر بیٹے کو4-3/12 کنال 4-9/44 ہر بیٹی کو2-3/44کنال ۸؍۱۰؍۱۴۲۰ھ س: ایک آدمی کی چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے اور اس آدمی کی بیوی اور والدین فوت ہو چکے ہیں اس کی وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ یعنی اس کی اولاد کو کتنا حصہ ملے گا؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں ) ج: اگر اس آدمی کی بیوی اور اس کے والدین تینوں اس کی زندگی میں فوت ہو گئے اور اب کے آدمی خود فوت ہو گیا اور اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑ گیا تو اس فوت ہونے والی شخصیت کے وصایا و دیون اگرہوں ، ادا کرنے کے بعد ترکہ کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر لیا جائے گا دو حصے بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو دے دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿یُوْصِیْکُمُ ا للّٰه فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء:۴؍۱۱][’’اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔‘‘ ] ۲۳؍۶؍۱۴۲۳ھ س: میری دادی امی کافی عرصہ پہلے فوت ہو گئیں ، ان کے نام ایک مکان تھا ، اس کو وراثت کی طرح تقسیم ہونا تھا کیونکہ وہ وراثت تھی لیکن کسی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا کچھ سال بعد میرے چچا جن کا نام اقبال تھا وہ بھی فوت ہو گئے ۔ ان کی شادی ہو چکی تھی لیکن ان کی اولاد کوئی نہ تھی ۔ اب بقیہ وارثوں میں میرے ایک چچا (صدیق)چار پھوپھیاں اور میرے والد گرامی (سیف اللہ)اور میرے دادا ابو (یعقوب)موجود ہیں اب اگر اس مکان کی فرضی قیمت دس لاکھ (۰۰۰،۰۰،۱۰)لگائی جائے تو وراثت کس طرح تقسیم ہو گی؟ (محمد صارم بن سیف اللہ) ج: آپ کی دادی جب فوت ہوئی ، آپ کے بیان کے مطابق اس وقت اس کے وارث مندرجہ ذیل لوگ تھے:.....تین بیٹے اقبال ، صدیق اور سیف اللہ ، چار لڑکیاں اور خاوند محمد یعقوب صاحب۔ اگر آپ کا سوال صحیح اور آپ کی دادی کی وفات کے وقت مذکور لوگ ہی وارث تھے اور کوئی وارث زندہ نہ تھا تو جواب مندرجہ ذیل ہے۔ خاوند محمد یعقوب کو ( چوتھا حصہ ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ کَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ