کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 642
ج: ساری تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ فضل دین ولد سندھی متوفی کا ترکہ ۳۴ کنال اراضی اس کے رشتہ داروں دو بھتیجوں میراں بخش اور علم دین اور ایک چچا خیر دین میں کیسے تقسیم ہو گا؟ تو گزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے : ﴿وَأُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُھُمْ أَوْلیٰ بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ﴾ [الأنفال:۸؍۷۵][’’اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں ۔‘‘ ] نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِھَا ، فَمَا بَقِیَ فَھُوَ لِاَوْلیٰ رَجُلٍ ذَکَرٍ)) (صحیح بخاری) [1] [’’حق داروں کو ان کے مقرر شدہ حصے ادا کردو اور جو بچ جائے وہ (میت کے)قریب ترین مرد (رشتہ دار)کا حصہ ہے۔‘‘] اب ظاہر ہے کہ فضل دین کے دونوں بھتیجے اس کے چچا سے اولیٰ و أقرب ہیں اس لیے فضل دین کا ترکہ ان دونوں بھتیجوں میں تقسیم ہو گا اور چچا محجوب ہو گا لہٰذا فضل دین کے ترکہ ۳۴ کنال اراضی سے اس کے دیون و وصایا۔ اگر ہوں تو .....ادا کرنے کے بعد باقی اس کے دونوں بھتیجوں میں نصف و نصفی تقسیم ہو گا۔ پہلے حصے میں جواب طلب سوال نمبر ۴ ہے جس کا جواب اوپر بیان ہو چکا ہے ، دوسرے حصے میں جواب طلب سوال نمبر ۳ ہے جس کا جواب اوپر بیان ہو چکا ہے۔ تیسرے حصہ میں سوال نمبر ۱ ، نمبر ۲ اور نمبر ۳ تو محض فرضی ہیں صورتِ مسؤلہ میں یہ چیزیں موجود ہی نہیں اور نمبر ۴ ویسے ہی خطا ہے اور نمبر ۵ میں بھتیجوں کو فضل دین کا عصبہ نہ بنانا خطا ہے عصبات میں یہ اصول ہے کہ اقرب کی موجودگی میں ابعد اور اولیٰ کی موجودگی میں غیر اولیٰ محجوب ہوتا ہے جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے۔ واللہ اعلم س: ایک بندہ فوت ہوا تو اس نے پیچھے ایک بیوی ، چار بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑیں اور کل ترکہ ۲۶ کنال زمین ہے۔ (ابو مسلم ، فیصل آباد) ج: میت کی چونکہ اولاد موجود ہے اس لیے بیوی کو بعد از ادائے وصیت وقرض آٹھواں حصہ ملے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَـإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ أَوْدَیْنٍ﴾[النساء:۴؍۱۲] [ ’’اور اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا ، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔‘‘ ]اور باقی چار بیٹے اور تین بیٹیوں میں ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء:۴؍۱۱] [’’ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔‘‘ ] کے تحت تقسیم ہو گا کل ترکہ چونکہ ۲۶ کنال ہے لہٰذا تقسیم کی صورت مندرجہ ذیل ہے ۔ وباللہ التوفیق [1] صحیح بخاری؍کتاب الفرائض؍باب میراث الولد من أبیہ و أُمہ