کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 637
والد فوت ہوا تو اس لڑکی نے بعد میں آ کر جائیداد کا مطالبہ کیا اور بہت جھگڑا کیا چونکہ والد نے اپنے نام کچھ نہ رہنے دیا اس کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اب قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ کیا ہم یا میرے والد صاحب جو فوت ہو گئے ہیں مجرم ہیں یا نہیں ؟ اگر والد صاحب پر اس بات کا بوجھ ہے یا وہ مجرم ہیں تو ہم اس کو جائیداد دے دیں ہمیں یا والد صاحب کو قبر میں ، حشر میں اس جائیداد کے متعلق گرفت نہ ہو۔ ج: صورتِ مسؤلہ میں فوت ہونے والے کے رشتہ دار صرف ایک بہو ، ایک لڑکا ، ایک لڑکی اور پوتے لکھے گئے ہیں اور کوئی رشتہ دار نہیں لکھا گیا اگر واقعہ میں اس کا کوئی اور رشتہ دار نہیں تو مسئلہ مندرجہ ذیل ہے ۔ بہو تو وارث نہیں ۔ پوتے بھی بیٹے کی موجودگی میں وارث نہیں ہوتے ۔تو فوت ہونے والے کی جائیداد متروکہ منقولہ و غیر منقولہ اس کے لڑکے اور لڑکی دونوں میں لِلذَّکَرَِ مِثْلُ حَظِّ الْأُ نْـثَیَیْنِ کے مطابق تقسیم ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یُوْصِیْکُمُ ا للّٰه فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء : ۱۱] [ ’’وصیت کرتا ہے تم کو اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد میں مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے ۔ ‘‘ ] باقی فوت ہونے والے کا کچھ جائیداد بیٹے اور کچھ پوتوں اور بہو کے نام لگوانا تاکہ بیٹی کو کچھ نہ ملے درست فعل نہیں ۔ ہاں اگر بیٹی کافر ہو گئی تھی فوت ہونے والے کی زندگی میں تو وہ اپنے مسلم اقرباء باپ وغیرہ کی وارث نہیں اور اگر وہ مسلم ہے خواہ مجرم ہی سہی تو اس کو حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا﴾ [النساء:۷][’’حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔‘‘] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : (( لَا یَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ وَلَا الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ)) [1] [ ’’نہیں وارث بنے گا مسلمان کسی کافر کا او ر نہ کافر وارث بنے گا مسلمان کا۔‘‘] [بخاری؍کتاب الفرائض]واللہ اعلم س: ہم تین بہن بھائی تھے۔ رانا امداد علی بن شاہ دین خاں ، رانا مشتاق علی بن شاہ دین خاں ، حمیدہ بیگم دختر شاہ دین خاں ۔ ہمارے باپ کی ساڑھے سات (7.5)ایکڑ زمین تھی۔ ساڑھے چھ ایکڑ زمین میں نے اور میرے بڑے بھائی نے خریدی۔ میں اور میرا بڑا بھائی دونوں اکٹھے کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ بڑے بھائی کی شادی ہو چکی تھی اور اس کے تین بچے تھے ۔ اسی دوران ہمارے گھریلو حالات سا زگار نہ تھے اس وجہ سے میں گھر سے چلا گیا، پھر مجھے واپس لایا گیا تو میں نے ایک کنال رقبہ کا پلاٹ خریدا۔ پھر میری شادی ہو گئی تو ہم [1] بخاری؍کتاب الفرائض ؍باب لا یرث المسلم الکافر۔ مسلم؍کتاب الفرائض باب لا یرث المسلم الکافر۔ ترمذی؍کتاب الفرائض؍باب ما جاء فی ابطال المیراث بین المسلم والکافر ۔ ابن ماجہ ؍کتاب الفرائض ؍باب میراث اھل الاسلام من اھل الشرک