کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 634
نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاo﴾[النساء:۷][ ’’ماں باپ اور اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔‘‘ ] اور کتاب و سنت کی رو سے صورت مذکورہ میں ہبہ کرنے والی عورت کی جائیداد میں سے اس کی وفات کے بعد نصف (اس کی بیٹی کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَإِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ﴾ [النساء:۱۱] [ ’ اور اگر ایک ہی لڑکی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے۔‘‘ ] اور نصف ( اس کی بہن کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَیْسَ لَـہٗ وَلَدٌ وَّلَـہٗ أُخْتٌ فَلَھَا نِصْفُ مَا تَرَکَ﴾[النساء:۱۷۶] [’’اور اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہواور ایک بہن ہو تو اس کے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے۔‘‘] جبکہ صورت مسؤلہ میں بذریعہ ہبہ بہن کو بالکل ہی محروم کر دیا گیا ہے اور بیٹی کے نصف (کو پانچواں حصہ دے کر کم کر دیا گیا ہے حالانکہ قرآن مجید کی رو سے بہن اور بیٹی کے حصے ’’نصیب مفروض ‘‘ فرض ہیں ۔ ہاں یہ عورت اپنی جائیداد کے تیسرے حصے یا اس سے بھی کم حصے کو اپنی بھانجیوں کو ہبہ کر سکتی ہے ۔ جیسا کہ حدیث (( لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ)) اور حدیث سعد بن ابی وقاص (( قَالَ نَعْم! وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ)) سے ثابت ہوتا ہے۔ واللہ اعلم ۲۶؍۳؍۱۴۲۴ھ س: میرے دادا مرحوم نے ایک مکان وراثت میں چھوڑا جس میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں وارث ہیں ، دونوں بیٹیاں اور بیٹا صاحبِ اولاد ہیں ۔ مذکورہ مکان میں بیٹا اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ ۱۹۵۴ء میں بھائی نے بہنوں سے اجازت طلب کی کہ مجھے مکان مذکور کی تعمیر کی اجازت دیں تو میں ان کا حصہ وراثت بعد میں ادا کردوں گا۔ کیونکہ مکان کی حالت خستہ تھی جس پر دونوں بہنوں نے بھائی کو اجازت دے دی۔ ۱۹۹۳ء میں بھائی کا انتقال ہو گیا اور ۱۹۹۸ء میں ایک بہن بھی انتقال کر گئی ۔ اب دونوں بہنوں کو مکان کا حصہ ادا کرنا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ حصہ کس شرح سے ادا کیا جائے؟ پرانے مکان کی موجودہ قیمت کے حساب سے یا نئے کی قیمت کے حساب سے کیونکہ مکان کی تعمیر کا سارا خرچہ بھائی نے خود اپنی گرہ سے کیا تھا اور جو بہن انتقال کر گئی ہے اس کا حصہ کیا اس کے بچوں کو ادا کیا جائے گا؟ (یاسر صالح) ج: بھائی کی تعمیر سے قبل مکان جس حالت میں تھا اس حالت میں مکان کی موجودہ قیمت لگائی جائے گی۔۔ پھر اس وقت سے لے کر تقسیم تک اس مکان کا کرایہ لگایا جائے گا ۔ وہ بھی وارثوں میں تقسیم ہو گا۔ الا یہ کہ وارث از خود بلا جبر و اکراہ مکان میں رہائش و الے وارث کو کرایہ چھوڑ دیں ۔ انتقال کر جانے والی بہن کا حصہ اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گا۔ ۱؍۵؍۱۴۲۱ھ